معطل میڈیکل لائسنس کے باوجود ایم ایس کی تعیناتی کیخلاف عدالت میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
معطل میڈیکل لائسنس کے باوجود ایم ایس کی تعیناتی کیخلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق شاہزیب سہیل نے بیرسٹر راجہ ارسلان کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ تقرری عوامی مفاد اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ صوبائی حکومت نے ایک ایسے فرد کو تعینات کیا ہے جس کا لائسنس پی ایم ڈی سی نے منسوخ کر رکھا ہے۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ڈاکٹر سید ارشاد حسین کاظمی کو 13 نومبر 2025 کو لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد میں تعینات کیا گیا۔ پی ایم ڈی سی ڈسپلنری کمیٹی نے 21 نومبر 2022 کو لائسنس معطل کردیا تھا۔ لائسنس 5 برس کے لیئے معطل کیا کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 15 ایسے فرد کی تقرری سے روکتی ہے۔ ڈاکٹر ارشاد کو بدعنوانی پر ڈسپلنری کارروائی کا سامنا ہوچکا ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ لائسنس معطلی کے دوران ڈاکٹر قانوناً کسی اسپتال کی سربراہی کے اہل نہیں رہتا۔ ڈاکٹر ارشاد حسین کاظمی کی بطور ایم ایس تعیناتی کو کاالعدم قرار دیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواست میں
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔