سپریم کورٹ، انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال بعد نمٹا دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال بعد نمٹا دی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شریعت کورٹ نے جن قوانین کی نشاندہی کی تھی وہ ختم ہو چکے، انتخابات کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017 رائج الوقت ہے، اپیلیں غیر مؤثر ہونے کی وجہ سے واپس لینا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کی درخواست 36 سال قبل دائر ہوئی تھی۔ شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے 1989 میں اپیلیں دائر کی تھیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔