جعلی دستاویزات پر بیرون ممالک جانے والے مسافروں کے خلاف شکنجہ سخت
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
جعلی دستاویزات پر بیرون ممالک جانے والے مسافروں کے خلاف شکنجہ سخت کردیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز چوہدری سالک حسین کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پروٹیکٹر کے اجراء کے نظام کو فول پروف بنایا جائے گا جبکہ مسافروں کی سہولت کیلئے امیگریشن سسٹم میں بھی اصلاحات کی جائیں گی۔
وفاقی وزراء نے 7 روز میں حتمی سفارشات طلب کرلیں جبکہ جعلی ویزوں کے دھندے میں ملوث عناصر اور ایجنٹ مافیا کے خلاف موثر کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ غیر قانونی امیگریشن روکنے کیلئے جنوری سے اسلام آباد میں اے آئی بیسڈ ایپ کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا جا رہا ہے۔ اے آئی ایپ کے ذریعے پہلے سے ہی علم ہو جائے گا کہ کون سفر کے قابل ہے اور کون نہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ ڈیپورٹ شدہ افراد کا پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد انہیں دوبارہ ویزہ نہ ملنے کو یقینی بنائیں گے۔ یکساں انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس نیشنل پولیس بیورو سے جاری کیا جائے گا۔ جعلی ویزوں اور ایجنٹ مافیا کے خلاف زیرو ٹالرنس اپنائی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ گرین پاسپورٹ کی درجہ بندی بہتر بنانے کیلئے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہی، غلط طریقوں سے لوگ باہر جا کر ملک کی ساکھ متاثر کر رہے ہیں، امیگریشن ریفارمز کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور عالمی ساکھ بہتر بنانا ہے۔
وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے کہا کہ پروٹیکٹر کا مکمل شفاف نظام وقت کا بنیادی تقاضہ ہے۔ لیبر ویزے پر جانے والے افراد کے پاس مستند دستاویزات کا ہونا ضروری ہے، وزارت اوورسیز پاکستانیز پروٹیکٹر اور امیگریشن سسٹم میں بہتری کے لئے وزارت داخلہ سے ہر ممکن تعاون کرے گی۔
اجلاس میں غیر قانونی تارکین وطن اور نامکمل دستاویزات کے حامل افراد کے خلاف کارروائی کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ لیا گیا، ای ڈرائیونگ لائسنس، پروٹیکٹر اسٹامپ اور امیگریشن امور پر تفصیلی غور بھی کیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری و اسپیشل سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اوورسیز پاکستانیز، چیئرمین نادرا، ڈی جی و ڈائریکٹرز ایف آئی اے، ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور تمام متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کے خلاف
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔