انتخابی نظام غیراسلامی قرار دینے کے حوالے سے درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹادیں گئی
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں انتخابی نظام کو غیراسلامی قرار دینے سے متعلق 36 سال پرانا مقدمہ وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیا گیا۔ شریعت اپیلیٹ بینچ نے قرار دیا کہ متعلقہ قوانین ختم ہوچکے اور اب الیکشن ایکٹ 2017 نافذ ہے۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں انتخابی نظام کو غیراسلامی قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس کی سربراہی جسٹس شاہد وحید نے پانچ رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ کے ساتھ کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ شریعت کورٹ نے جن قوانین کی نشاندہی کی تھی وہ اب ختم ہوچکے ہیں، جبکہ انتخابات سے متعلق الیکشن ایکٹ 2017 رائج الوقت قانون ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر آج سہ پہر اہم پریس کانفرنس کریں گے
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 1979 میں دائر کی گئی اپیلیں مؤثر نہیں رہیں، اسی لیے انہیں واپس لینا چاہتے ہیں۔عدالت نے وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر 36 سال پرانا مقدمہ نمٹا دیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
سٹی 42: خصوصی مشیر وزیر اعلیٰ علی ڈارکی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا۔ جس میں علی ڈار نے داتاؒ دربار عرس کیلئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا
صوبائی وزیر بلال یاسین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے میاں مرغوب احمد شریک ہوئے ۔ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ، ڈپٹی کمشنر لاہور محمد علی اعجاز،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق و دیگر شریک ہوئے ۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کا تین روزہ سالانہ عرس 2 تا4 اگست کو منعقد ہوگا،خطیب داتا ؒدربار مولانا ندیم مختار نے سیرت و صوفی کانفرنسز سے متعلق آگاہ کیا۔محافل، قرأت اور نعت خوانی کے مقابلوں کے انعقاد سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
علی ڈار نے کہا داتاؒ دربار تعمیراتی منصوبہ عہد ساز اور تاریخی نوعیت کا حامل ہے،عرس میں دنیا بھر سے زائرین حاضری کی سعادت حاصل کریں گے،زیرِ تعمیر انڈر پاس اور متعلقہ سڑکیں عرس سے قبل کھولی جائیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی