ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
بیرسٹر گوہر نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج پی ٹی آئی کی غیر معمولی پریس کانفرنس ہونے جا رہی ہے، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے ہیں، کچھ باتوں کا عوام کو بتانا ضروری ہے کیوںکہ ہمارے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے ہیں جبکہ ہمارے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں اور ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عوام کو بتانا ضروری ہے۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج پی ٹی آئی کی غیر معمولی پریس کانفرنس ہونے جا رہی ہے، ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینے نہیں جا رہے ہیں، کچھ باتوں کا عوام کو بتانا ضروری ہے کیوںکہ ہمارے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ عوام کو بتانا ضروری ہے، 180 سیٹوں کے ساتھ 91 سیٹوں پر بیٹھے، ہمارے گھر کی سیٹ چلی گئی، بانی چئیرمین نے ہمیشہ کہا کہ ملک بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری، جنگ کے وقت میں ہم فوج کے ساتھ کھڑے رہے لیکن اس سب کے بعد ہم سمجھ رہے تھے کہ شاید چیزیں بہتری کی طرف چلی جائیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کل کی پریس کانفرنس کے بعد بہت افسوس ہوا، جو الفاط استعمال کیے گئے وہ نامناسب تھے، ہم یہ واضح کرنا چاہ رہے ہیں کہ شاید لوگ لڑوانا چاہ رہے ہیں، اپنی انا کو جانے دینا ہوگا، ایک دوسرے کو جگہ دینا ہو گا، ملاقات ہو نہیں رہی اور مقدمات نہیں لگ رہے ہیں۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے تاریک لمحے آئے ہیں، ملک کو جبر میں دھکیلا گیا ہے، ہمیشہ یہ کہا جاتا تھا کہ اس ملک کو ڈنڈے کی ضرورت ہے، پھر یہ ملک ترقی کرے گا، پھلے گا پھولے گا لیکن اس کے بعد کیا ہوا، ہم جانتے ہیں کراچی میں بوری بند لاشیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں خون ہے، بارود ہے، اسلحہ ہے لیکن فلاح نہیں ہے، اس ملک میں بار بار دعوے کیے گئے ہیں کہ اس ملک کو جمہوریت راس نہیں آتی، ہر بار جابر ملک کو پہلے سے کمزور چھوڑ کر گیا، پاکستان آج کہاں کھڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں اس وقت مکالمہ ہو رہا ہے، جو ورلڈ آرڈر تیار کیا گیا تھا وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، آج تمام نظام کو منہدم کیا جا رہا ہے، ملکوں کو کہا جا رہا ہے کہ طاقت ور ملک کے ساتھ جائیں، ایک طرف چین ہے اور دوسری طرف امریکا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ دو ملکوں کے درمیان جنگ چلتی رہی ہے، پاکستان کو ہمیشہ اس مکالمے میں کچھ نہیں ملا، پاکستان آج کہاں کھڑا ہے؟ کیا پاکستان کو ہم نے جبر کے ساتھ آگے لے کر جانا ہے، ہمیشہ اشرافیہ امیر سے امیر تر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسا حملہ کیا گیا ہے، جس کی آئین اور قانون میں مثال نہیں ملتی، پاکستان واحد ملک ہے جہاں آئین ہے، کچھ اصول ہیں جو پوری دنیا نے اپنا لیے ہیں لیکن پاکستان پوری دنیا سے پیچھے ہے، کیسے ایک افسر آزاد عدلیہ کا نعم البدل ہو سکتا ہے؟
رہنما پی ٹی آئی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے ہمیں مخصوص نشستیں دیں لیکن اس کے بعد اس کو ایک ضلعی عدالت بنا دیا گیا، ایمان مزاری اور ہادی وکلا ہیں ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے، کیا پاکستان اس لیے بنا تھا؟ انہوں نے کہا کہ قائداعظم نے عسکری قیادت کو ہمیشہ کہا کہ آپ سیایست میں شریک نہیں ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عوام کو بتانا ضروری ہے انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی کہ ہمارے کے ساتھ کے بعد ملک کو رہا ہے
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔