خاتون ڈی ایس پی کا بزنس مین سے محبت کا ڈھونگ؛ کروڑوں ہتھیالیے؛ ہوٹل بھی نام کرالیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
بھارت میں جواں سال خوبصورت خاتون پولیس افسر نے ایک تگڑے بزنس مین کو اپنی محبت کے جال میں ایسا پھانسا جس میں وہ بے چارا اپنے کروڑوں روپوں کا نقصان کرا بیٹھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اپنی نوعیت کا یہ حیران کن واقعہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں پیش آیا جہاں ایک خاتون پولیس افسر پھولن دیوی بن گئی۔
خاتون پولیس افسر نے پہلے تو بزنس مین کے ساتھ پینگیں بڑھائیں اور پھر اپنی محبت کا یقین دلا کر قیمتی زیورات اور نقدی کے ساتھ ساتھ ایک ہوٹل بھی اپنے نام کروا لیا۔
تاہم خاتون کے اچانک غائب ہونے پر بزنس مین دیپک ٹنڈن کے لیے نئی پریشانی کھڑی ہوگئی اور انھوں نے تھانے میں شکایت درج کرائی۔
یہ خاتون افسر رائے پور میں ڈی ایس پی ہیں اور ان کا نام کلپنا ورما ہے۔ جن پر بزنس مین نے 2 کروڑ روپے نقد، ہیرے کی انگوٹھی، سونے کے زیورات، گاڑی اور رائے پور کا ہوٹل کا اپنے نام کروایا۔
ادھر ڈی ایس پی کلپنا ورما نے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری تنازع کی وجہ سے مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پولیس نے رپورٹ درج کرکے تفتیش کا آغاز کردیا لیکن تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔