ڈی پورٹ نہیں کیا گیا ورنہ برطانیہ سے بزنس کلاس میں نہیں آتا، رجب بٹ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
معروف یوٹیوبر اور ٹک ٹاکر رجب بٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے ڈی پورٹ نہیں کیا گیا ورنہ بزنس کلاس میں واپس نہیں آتا۔
برطانیہ کی جانب سے ویزا کینسل کیے جانے کے بعد رجب بٹ اور ندیم نانی والا گزشتہ شب پاکستان واپس پہنچے تھے اور آج صبح اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ سے 10 دن کی راہداری ضمانت ملنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رجب بٹ نے کہا کہ ہوم آفس میں درخواست گئی کہ میرے اوپر کیسز ہیں جس کی وجہ سے میرا ویزا کینسل ہوا، ڈی پورٹ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ میرا 10 سال کا ویزا تھا، میرے وکیل نے ریویو کو چیلنج کیا ہے۔
رجب بٹ نے کہا کہ کراچی میں دس دن کے اندر اندر عدالت میں پیش ہوں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ای سی ایل میں نام سدا بہار نہیں ہیں۔ جب تک کیس چل رہا ہے تب تک پاکستان میں ہی ہیں۔
رجب بٹ نے کہا کہ یو کے میں اگر ویزا کینسل ہو تو 10 سال کا بین لگتا ہے تو بین نہیں لگوانا۔ وزٹ کے لیے کبھی بھی جانا پڑ سکتا ہے، لیکن رہنا پاکستان میں ہی ہے۔
ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چل رہا ہے میرا ویزا بھی کینسل کیا گیا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے، میرے پاس برطانوی شہریت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے اوپر دو ایف آئی آرز ہیں جن پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت لی اب آگے کیس کو چلائیں گے۔
ندیم نانی والا نے کہا کہ میں ڈکی سے ملا جو بات ہوئی سوشل میڈیا پر بتائی، جب وقت آئے گا سب بتائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔