کریمہ بلوچ، بھارتی پراکسی سے اپنی راہ بدلنے تک کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
یہ کہانی ہے کریمہ بلوچ کی، جس نے کھلے عام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا ’بھائی‘ کہا اور رکشا بندھن کے موقع پر اسے راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس سوچ اور طرزِ عمل کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی وائی سی بھارتی پراکسی کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔
کریمہ بلوچ نے اپنی عورت ہونے کی شناخت اور مظلومیت کے نعرے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کو متحرک کیا، فنڈز اکٹھے کیے، اور بی ایس او آزاد جیسے دہشتگرد نرسری پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تشدد اور بغاوت کی طرف راغب کیا۔ ان کی سرگرمیاں نہ بلوچستان کی فلاح سے جڑی تھیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے مفاد سے، بلکہ بھارتی ایجنڈے کے تحت کی گئیں۔
مبینہ طور پر کریمہ بلوچ نے بیانیے کی آڑ میں فنڈز جمع کیے، شادی کی، اور کینیڈا میں سکونت اختیار کی۔ اسی طرزِ عمل کی وجہ سے بعد ازاں ماہرنگ بلوچ کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔
خطرات کے پیشِ نظر کینیڈا میں سیاسی پناہ کے بعد کریمہ بلوچ نے بی این ایم کے پلیٹ فارم کو ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا، جس سے اس کا ماضی اور طریقۂ کار ڈاکٹر نسیم بلوچ سمیت بعض اسٹیک ہولڈرز کے لیے خطرہ بن گیا۔
آخرکار ذاتی مفادات اور زندگی کے نئے مرحلے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے بعد کریمہ بلوچ بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے منحرف ہوگئیں، جس کا انجام پہلے ہی طے تھا۔
یہ کہانی نہ صرف ایک فرد کی بلکہ اس نظام کی بھی عکاس ہے جس میں بین الاقوامی ایجنسیاں جیسے ’را‘ اپنے اہداف کو پھانسنے اور استعمال کرنے کے بعد ان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کریمہ بلوچ
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔