WE News:
2026-06-02@23:18:14 GMT

کریمہ بلوچ، بھارتی پراکسی سے اپنی راہ بدلنے تک کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

کریمہ بلوچ، بھارتی پراکسی سے اپنی راہ بدلنے تک کی کہانی

یہ کہانی ہے کریمہ بلوچ کی، جس نے کھلے عام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا ’بھائی‘ کہا اور رکشا بندھن کے موقع پر اسے راکھی باندھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس سوچ اور طرزِ عمل کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں بی ایل اے اور بی وائی سی بھارتی پراکسی کے طور پر سمجھی جاتی ہیں۔

کریمہ بلوچ نے اپنی عورت ہونے کی شناخت اور مظلومیت کے نعرے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کو متحرک کیا، فنڈز اکٹھے کیے، اور بی ایس او آزاد جیسے دہشتگرد نرسری پلیٹ فارم کے ذریعے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو تشدد اور بغاوت کی طرف راغب کیا۔ ان کی سرگرمیاں نہ بلوچستان کی فلاح سے جڑی تھیں اور نہ ہی بلوچ عوام کے مفاد سے، بلکہ بھارتی ایجنڈے کے تحت کی گئیں۔

مبینہ طور پر کریمہ بلوچ نے بیانیے کی آڑ میں فنڈز جمع کیے، شادی کی، اور کینیڈا میں سکونت اختیار کی۔ اسی طرزِ عمل کی وجہ سے بعد ازاں ماہرنگ بلوچ کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا۔

خطرات کے پیشِ نظر کینیڈا میں سیاسی پناہ کے بعد کریمہ بلوچ نے بی این ایم کے پلیٹ فارم کو ذاتی اثر و رسوخ کے لیے استعمال کیا، جس سے اس کا ماضی اور طریقۂ کار ڈاکٹر نسیم بلوچ سمیت بعض اسٹیک ہولڈرز کے لیے خطرہ بن گیا۔

آخرکار ذاتی مفادات اور زندگی کے نئے مرحلے کی طرف توجہ مرکوز کرنے کے بعد کریمہ بلوچ بھارتی پراکسی نیٹ ورک سے منحرف ہوگئیں، جس کا انجام پہلے ہی طے تھا۔

یہ کہانی نہ صرف ایک فرد کی بلکہ اس نظام کی بھی عکاس ہے جس میں بین الاقوامی ایجنسیاں جیسے ’را‘ اپنے اہداف کو پھانسنے اور استعمال کرنے کے بعد ان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کریمہ بلوچ

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع