حالات معمول پر آنے کے دعوے کھوکھلے ہیں کیونکہ اہم سیاحتی مقامات مسلسل بند ہیں، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
گلمرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اعتراف کیا کہ سیاحتی مقامات کو بند کرنے یا دوبارہ کھولنے کا اختیار منتخب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کے سربراہ اور کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا ہے کہ علاقے میں حالات معمول پر آنے کے دعوے کھوکھلے ہیں کیونکہ گلمرگ اور پہلگام جیسے بڑے سیاحتی مقامات سکیورٹی کے نام پر مسلسل بند ہیں۔ ذرائع کے مطابق عمر عبداللہ نے گلمرگ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اہم سیاحتی مقامات کی مسلسل بندش کو ناکامی قرار دیا اور کہا کہ اہم سیاحتی مراکز تک رسائی کو محدود کرنا اور علاقے میں حالات معمول پر آنے کے دعوے متضاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں صورتحال معمول پر آنے کے سرکاری دعوئوں کے باوجود گلمرگ اور پہلگام کا آدھا حصہ بند ہے۔ عمر عبداللہ نے اعتراف کیا کہ سیاحتی مقامات کو بند کرنے یا دوبارہ کھولنے کا اختیار منتخب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نہ تو اس طرح کے فیصلے کرنے پر غور کر رہی ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس طرح کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے۔ اس سے مقبوضہ علاقے میں نئی دہلی کے زیر کنٹرول مقامی حکومت کے محدود اختیارات کی نشاندہی ہوتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا، تو یہ مقامات دوبارہ کھل چکے ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت بنیادی ڈھانچے کی ترقی تک محدود ہے جبکہ روزمرہ کی زندگی اور معیشت پر اثرانداز ہونے والے اہم فیصلے نئی دہلی کے زیر کنٹرول لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیرقیادت انتظامیہ لیتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ سیاحتی مقامات کو کب تک بند رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سیاحت پر منحصر کشمیر کی معیشت کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاحتی مقامات تک رسائی پر مسلسل پابندیاں معمول کے مطابق حالات کے دعوئوں کی نفی کرتی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے عہدے کے باوجود عمر عبداللہ کا بیان اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حقیقی اختیارات نئی دہلی اور اس کے فوجی حکام کے پاس ہیں اور منتخب حکومت بڑی حد تک علامتی ہے جبکہ حالات معمول کے مطابق ہونے کے دعوے زمینی حقائق کے بالکل برعکس ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ سیاحتی مقامات معمول پر آنے کے انہوں نے کہا کہ عمر عبداللہ نے نے اعتراف کیا منتخب حکومت حالات معمول علاقے میں حکومت کے کے دعوے کے پاس
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔