سہیل آفریدی منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کیخلاف متحرک
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
غذائی اجناس کی خود کفالت کیلئے جامع پلان تیار ،محکمہ خوراک کو کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت
اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر ہر صورت دستیابی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے محکمہ خوراک کو ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اشیائے خوردونوش کی سرکاری نرخوں پر ہر صورت دستیابی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے عوامی سہولت کے لیے فیلڈ وزٹس بڑھانے اور غذائی اجناس کی خود کفالت کے لیے جامع پلان تیار کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں محکمہ خوراک کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے محمد سہیل آفریدی نے گندم کی سٹوریج کیپسٹی بڑھانے کے لیٔے اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اسٹوریج کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور بیسٹ پریکٹیسز کا موثر استعمال کیا جائے۔ اجلاس کو گندم کی طلب و رسد بارے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ صوبے کی سالانہ گندم کی طلب 53 لاکھ میٹرک ٹن ہے، 14 لاکھ میٹرک ٹن مقامی پیداوار ہے جبکہ باقی ماندہ 38 لاکھ میٹرک ٹن دیگر صوبوں سے حاصل کی جاتی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ فوڈ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گذشتہ چھ ماہ میں فوڈ سے منسلک کاروباروں کے 186,312 انسپیکشنز کیے گئے۔ انسپکشنز کے دوران 8,802 دکانوں کو چالان کیا گیا جبکہ 3 کروڑ 10لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد ہوے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی بارے بتایا گیا کہ حلال فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جنوری تا دسمبر 86,817 انسپیکشنز کے دوران 403,191 کلوگرام؍لیٹر مضر صحت اشیاء تلف کی گئیں۔ اسی عرصے میں 8 کروڑ چالیس لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ موبائل لیبز کے ذریعے جنوری تا دسمبر 14213 فوڈ سیمپل ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 10139 نمونے پاس جبکہ 4074 نمونے فیل قرار پائے۔ اسی عرصے کے دوران سنٹرل فوڈ ٹیسٹنگ لیب کے ذریعے 2812 فوڈ سیمپل ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 2074 پاس جبکہ 738 فیل قرار پائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
اگلےسال نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشن(crypto transactions) پر کیپیٹل گین ٹیکس لگانےکی تجویز سامنے آئی ہے،ذرائع کےمطابق کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 سے 30 فیصد تک کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف کی مشاورت سےکرپٹوسیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانےکی تیاری کی جارہی ہے، اس اقدام کا مقصدکرپٹو سیکٹرکو ٹیکس نیٹ میں لانا اورڈیجیٹل معیشت سےحاصل ہونے والے منافع کو ریگولیٹ کرنا ہے،آئی ایم ایف نے تمام ڈیجٹل کاروبار سے منافع پر ٹیکس عائد کا مطالبہ کیا تھا۔
مجوزہ پلان کےتحت انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سےمتعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کی جائے گی،کرپٹو ٹریڈنگ سےحاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کےدائرے میں آسکتا ہے۔
ذرائع کاکہنا ہےکہ ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےبھی کرپٹو صارفین پرٹیکس اور ریگولیٹری اقدامات کی تجاویزدی ہیں،جبکہ صارفین کی تعداد،ٹرانزیکشنزاورٹیکس میکانزم کےلیےایک خصوصی کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نےکرپٹوصارفین پر ٹیکس اقدامات تجویزکیے،کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزکشنز اور ٹیکس میکنزم کیلئے کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
مزید پڑھیں:27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
ورچوئل اثاثوں کو لیگل قراردےکرڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانےکافیصلہ کیاگیا، روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرکےورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن ہوگی،پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج ہوسکے گی۔