صوبے کے حقوق کیلئے تمام سیاسی اور قانونی راستے اختیارکرینگے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پشاور(نیوزڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ این ایف سی اجلاس میں صوبائی حقوق کیلئے سب کمیٹی قائم کردی گئی جوخوش آئندہے ۔ صوبے کے حقوق کیلئے تمام سیاسی اورقانونی راستے اختیارکیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ سب کمیٹی کی سربراہی صوبائی مشیرخزانہ کریں گے، واجبات کی سفارشات وفاق کوپیش کی جائیں گی، وزیراعلیٰ کی این ایچ پی اوراین ایف سی بقایاجات پرمحکمہ خزانہ کوہرہفتے وفاق کوخط ارسال کرنے کی ہدایت کردی۔ کہا ضم اضلاع کے لیے سالانہ100ارب روپے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
صوبائی کابینہ سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کوناحق قیداور مسلسل آئسولیشن میں رکھا جارہا ہے، بانی اور انکی اہلیہ کوقید میں سردیوں کا سامان بھی فراہم نہیں کیاجارہا۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں پر واٹرکینن چلانا، شرمناک اقدام ہے، صوبائی حکومت اس ناروا اور غیرانسانی سلوک کی بھرپورمذمت کرتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔