بلوچستان: فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی سرپرستی یافتہ 18 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 18 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقعات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 28 اور 29 اکتوبر کو بلوچستان میں 2 الگ الگ کارروائیوں میں 18 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا بتانا ہےکہ کوئٹہ کے علاقے چلتن میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیاگیا جس دوران فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، اس دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں بھارتی سرپرستی یافتہ 14 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
اہلخانہ سے 40 لاکھ کی وصولی، سی سی ڈی انسپکٹر تاجر کی اغوا واردات کا ماسٹر مائنڈ نکلا
آئی ایس پی آر کے مطابق ایک اورانٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیچ کے علاقے بلیدہ میں کیا گیا جہاں دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو تباہ کرتے ہوئے 4 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا گیا، مارے گئے دہشتگردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور بارودی مواد برآمد کیا گیا جب کہ دہشتگرد مختلف دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ کسی بھی بھارتی اسپانسرڈ دہشتگرد کو انجام تک پہنچانے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشنزجاری ہے، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنےوالےادارے ’عزم استحکام‘ کے تحت انسدادِدہشتگردی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ملک سے غیرملکی سرپرستی و حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔
وزیراعظم آزادکشمیرکیخلاف تحریک عدم اعتماد یکم نومبر کو پیش کیے جانے کا امکان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کارروائیوں میں دہشتگرد ہلاک ایس پی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک