بلوچستان میں 2 کارروائیوں کے دوران 18 بھارتی سرپرست دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں 2 الگ الگ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران بھارتی پراکسی تنظیم ’فتنہ الہندستان‘ سے تعلق رکھنے والے 18 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پہلا آپریشن کوئٹہ کے ضلع چلتن پہاڑی سلسلے میں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والا فتنہ الہند کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک
کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 14 بھارتی سرپرست دہشتگرد مارے گئے۔
دوسرا آپریشن ضلع کیچ کے علاقے بولیدہ میں کیا گیا، جہاں دہشتگردوں کے ایک خفیہ ٹھکانے کا سراغ لگا کر چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشتگرد مختلف تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی بھارتی سرپرست دہشتگرد کو فرار ہونے کا موقع نہ ملے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک
بیان میں کہا گیا کہ وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری قومی ایکشن پلان کے تحت ’عزمِ استحکام‘ کے ویژن کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک اپنی انسدادِ دہشتگردی مہم بھرپور انداز میں جاری رکھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر چلتن فتنہ الہند.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر چلتن فتنہ الہند سیکیورٹی فورسز کے دوران
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔