امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں واقع براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے نے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں امتحانات کے دوران ہونے والی اندھا دھند فائرنگ میں 2 افراد ہلاک جبکہ 8 زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد یونیورسٹی کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے اور حملہ آور تاحال فرار ہے۔

خبر کے مطابق ہفتے کی شام تقریباً 4 بجے پروویڈنس میں براؤن یونیورسٹی کے بارس اور ہولی انجینئرنگ بلڈنگ میں اس وقت فائرنگ کی گئی جب طلبہ امتحانات دے رہے تھے۔ پولیس نے دو گھنٹے کی کارروائی کے بعد عمارت کو کلیئر کیا۔ عینی شاہدین اور پولیس کے مطابق حملہ آور سیاہ لباس میں ملبوس ایک مرد تھا۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے ابتدا میں مشتبہ شخص کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تاہم بعد ازاں وضاحت کی گئی کہ زیر حراست فرد حملہ آور نہیں تھا اور اصل مشتبہ شخص اب بھی مفرور ہے۔ اس کے بعد طلبہ، اساتذہ اور عملے کو ہدایت کی گئی کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور کیمپس میں کسی قسم کی نقل و حرکت نہ کریں۔

براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسن نے کہا کہ لاک ڈاؤن بدستور جاری ہے اور تمام افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ عمارتوں کے اندر رہیں، دروازے بند رکھیں اور کیمپس میں نقل و حرکت سے گریز کریں۔

یونیورسٹی کے پبلک سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے فائرنگ کے فوراً بعد الرٹ جاری کرتے ہوئے طلبہ اور عملے کو ہدایت دی کہ ضرورت پڑنے پر بھاگیں، چھپیں یا اپنا دفاع کریں۔

پروویڈنس کے میئر بریٹ سمائلی کے مطابق جس عمارت میں فائرنگ ہوئی اس کے بیرونی دروازے کھلے تھے اور اس وقت کوئی بھی شخص اندر داخل ہو سکتا تھا۔ واقعے کی تحقیقات میں پروویڈنس پولیس کی مدد کے لیے ایف بی آئی، بیورو آف الکحل، ٹوبیکو، فائر آرمز اینڈ ایکسپلوسِوز اور امریکی سیکرٹ سروس بھی شامل ہو گئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی واقعے پر بریفنگ دی گئی ہے۔ براؤن یونیورسٹی امریکا کی قدیم ترین اور معروف آئیوی لیگ نجی جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ ایک ابتدائی رپورٹ ہے اور مزید تفصیلات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: براؤن یونیورسٹی کے مطابق

پڑھیں:

کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔

ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔

مزید پڑھیں

کیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی

2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا

ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک