کرم میں آپریشن: 7 خوارج ہلاک، کیپٹن، 5 جوان شہید: بلوچستان، جعفر ایکسپریس پر راکٹوں سے حملہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اسلام آباد‘ مستونگ‘ نصیر آباد‘ ڈیرہ مراد جمالی (خبرنگار خصوصی‘ نمائندہ خصوصی‘ اپنے سٹاف رپورٹر سے‘ نوائے وقت رپورٹ‘ نیٹ نیوز) سکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی، فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع کرم کے علاقے ڈوگر میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا۔ مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آپریشن کے دوران سات بھارتی سپانسرڈ خوارج کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران بہادر میڈیکل آفیسر کیپٹن نعمان سلیم (عمر: 24 سال، ساکن ڈسٹرکٹ میانوالی) جو طبی نگہداشت کے فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنے پانچ جوانوں کے ساتھ بہادری سے دہشتگردوں سے لڑے اور شہادت کو گلے لگا لیا۔ مادر وطن کے لئے جانوں کی قربانی دینے والے پانچ سپاہیوں میں حوالدار امجد علی (عمر: 39 سال، ساکن ڈسٹرکٹ صوابی)، نائیک وقاص احمد (عمر: 36 سال، ساکن ڈسٹرکٹ راولپنڈی)، سپاہی اعزاز علی (عمر: 23 سال، ساکن ڈسٹرکٹ شکارپور)، سپاہی محمد ولید (عمر: 23 سال، ساکن ضلع صوابی)، سپاہی محمد ولید (عمر: 23 سال، ساکن ضلع صوابی) شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے "عزم استحکام" (جیسا کہ نیشنل ایکشن پلان پر اپیکس کمیٹی کی طرف سے منظور شدہ) وژن کے تحت انسداد دہشت گردی مہم جاری رکھی جائے گی اور علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی دوسرے ہندوستانی سپانسر شدہ خارجی کو ختم کرنے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن بھی جاری ہے۔ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرے اور بیرون ملک کی حمایت یافتہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے آپریشن پوری رفتار سے جاری رکھا جائے گا۔ ڈیرہ مراد جمالی میں پولیس موبائل پر دستی بم حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق حملے میں دو پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد زخمی ہو گئے۔ ایس ایس پی غلام سرور بھیو کے مطابق زخمیوں میں دو خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔ نوتال نصیر آباد کے قریب جعفر ایکسپریس پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ پولیس کے مطابق جعفر ایکسپریس پر متعدد راکٹ داغے گئے۔ تاہم ٹرین محفوظ رہی۔ فورسز کی جوابی کارروائی میں حملہ آور فرار ہوگئے۔ جعفر ایکسپریس بلوچستان کی حدود سے نکل کر سندھ کی حدود میں داخل ہوگئی۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری‘وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ نے دہشتگردی کیخلاف آپریشن میں شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ صدر مملکت نے کرم کے علاقے ڈوگر میں خوارج کے خلاف کارروائی میں شہید ہونے والے کیپٹن نعمان سلیم اور ان کے پانچ ساتھیوں کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا اور 7 خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی ہے۔ بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے دشت میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک راہگیر شہید اور 8 افراد زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کی زد میں راہگیر اور دیگر افراد بھی آئے۔ فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہگیر جاں بحق ہوگیا جبکہ پکنک پر آئے 8 افراد زخمی ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز جعفر ایکسپریس ساکن ڈسٹرکٹ کے مطابق
پڑھیں:
علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
اسلام ٹائمز: موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔ تحریر: عبداللہ البحرانی
مملکتِ بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کے اقدامات میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جو وسیع پیمانے پر گرفتاریوں، شہریت کی منسوخی اور مذہبی شعائر پر پابندیوں کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ مرآۃ البحرین کے حوالے سے عبداللہ البحرانی نے لکھا کہ یہ پیش رفت ایک ایسے حساس علاقائی ماحول میں رونما ہو رہی ہے جہاں داخلی سلامتی کے خدشات بدلتے ہوئے علاقائی اتحادوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، خصوصاً اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد۔ اس رپورٹ کا مقصد سرکاری بیانات، انسانی حقوق کے اداروں کے ردِعمل اور سرکاری مؤقف کے تقابلی جائزے کے ذریعے اس مہم کے سیاسی اور قانونی پہلوؤں کا تجزیہ کرنا ہے۔
تاریخی اور سیاسی پس منظر:
انہوں نے لکھا کہ بحرین میں حکومت اور شیعہ اکثریتی آبادی، جو ملک کی اکثریتی آبادی پر مشتمل ہے، ان کے درمیان کشیدگی ایک طویل عرصے سے موجود ہے۔ اس کشیدگی کی جڑیں سیاسی نمائندگی، اصلاحات کے مطالبات اور امتیازی سلوک کے الزامات میں پیوست ہیں۔ یہ تناؤ خاص طور پر 2011ء کے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد بڑھ گیا، جب احتجاجی تحریک کو سخت سکیورٹی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا اور شیعہ کارکنان اور علمائے دین کو نمایاں طور پر نشانہ بنایا گیا۔
حالیہ پیش رفت، مئی 2026 کی مہم:
البحرانی کے مطابق مئی 2026 کے آغاز میں بحرین کی وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرنے والے بحرینی شہریوں کے ایک گروہ سے متعلق کارروائی کی گئی ہے اور 41 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان افراد پر جارحیت کا جواب دینے کے حوالے سے ایران کے مؤقف سے ہمدردی کا الزام عائد کیا گیا۔ یہ اعلان بحرین کے فرمانروا شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے اپریل 2026 کے اواخر میں دیے گئے اس بیان کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بحرینی شہریت کوئی ایسا کاغذ نہیں جو محض عطا کر دیا جائے، بلکہ یہ ایک عہد و پیمان ہے، اور جو اس عہد کو توڑے گا وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے حق کو ساقط کر دے گا۔ اس بیان کو شہریت کی منسوخی کی دھمکی کے طور پر دیکھا گیا۔ بعد ازاں مئی 2026 کے آغاز میں حکومت نے 69 افراد کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے جاری کیے، جن میں بعض کے اہلِ خانہ بھی شامل تھے۔ اسی طرح پانچ افراد کو عمر قید اور مزید 24 افراد کو پانچ سے دس سال تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان تمام افراد پر ایران کے ردِعمل کی حمایت یا تائید سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے۔
مذہبی آزادیوں اور انسانی حقوق پر پابندیاں:
البحرانی کے مطابق یہ مہم صرف سکیورٹی پہلو تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کو بھی متاثر کیا ہے۔ تنظیم Americans for Democracy & Human Rights in Bahrain (ADHRB) نے مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے دوران بحرین میں شیعہ مذہبی رسومات پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی مذمت کی۔ تنظیم نے کعبہ کے ماڈل اور دیگر مذہبی علامات کو ہٹانے، نیز المعامیر گاؤں میں مذہبی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی طلبی اور گرفتاریوں کی نشاندہی کی۔ انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق یہ اقدامات کوئی نئی بات نہیں بلکہ 2011ء سے شیعہ اکثریتی آبادی کے حقوق پر جاری دباؤ کا تسلسل ہیں، جن میں مساجد کی بندش، نمازِ جمعہ پر پابندیاں اور مذہبی مناسبات کے انعقاد میں رکاوٹیں شامل ہیں۔
سیاسی اور قانونی پہلو:
البحرانی کا کہنا ہے کہ موجودہ پیش رفت کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے، نمبر ایک سکیورٹی ریاست سے نظریاتی مخالف ریاست کی طرف منتقلی اور دوسرا علاقائی طور پر کشیدہ حالات کو سکیورٹی کنٹرول کے فروغ کے لیے استعمال کرنا۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بحرینی سرکاری بیانیہ اب مخصوص افراد کے خلاف قانونی کارروائی سے آگے بڑھ کر ایک مذہبی نظریے اور مرجعیت (ولایتِ فقیہ) کو بذاتِ خود خطرہ قرار دینے کی سمت جا رہا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں شیعہ شہریوں کے ایک وسیع طبقے کو ممکنہ خطرے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے نزدیک یہ رجحان ایک ایسی ریاست کی علامت ہے جو محض سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنے کے بجائے ایک مخصوص مذہبی تعبیر کو قابلِ قبول قرار دیتی ہے اور اس سے ہٹ کر ہر نظریے کو جرم تصور کرتی ہے۔
علاقائی حالات سے فائدہ اٹھانے کی عوام دشمن پالیسی:
البحرانی نے مزید لکھا کہ یہ داخلی مہم خطے میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل ایک جانب اور ایران دوسری جانب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں، جو فروری 2026 میں مسلح تصادم تک جا پہنچی۔ ان کے مطابق بحرینی حکومت اس ماحول کو داخلی سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے اور ایران کے حامی سمجھے جانے والے کسی بھی عوامی یا مذہبی رجحان کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہے۔ یہ طرزِ عمل ایک نئی علاقائی سکیورٹی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کی بنیاد اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول سازی، ایران کے ساتھ سیاسی و سکیورٹی مخالفت اور اس مؤقف سے اختلاف رکھنے والی عوامی یا مذہبی سرگرمیوں کو جرم قرار دینے پر رکھی گئی ہے۔
چند تجاویز:
البحرانی کے مطابق دہشت گردی سے نمٹنے یا بیرونی فریقوں سے تعلقات کے نام پر بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں، خصوصاً مذہبی آزادی، آزادیِ عقیدہ اور حقِ شہریت کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مذہبی شناخت کو سکیورٹی خطرے سے جوڑنے کا عمل خوف اور عدم استحکام کی فضا پیدا کرتا ہے اور بحرینی معاشرے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ البحرانی نے سفارشات پیش کی ہیں کہ من مانی گرفتاریوں اور شہریت کی منسوخی کا فوری خاتمہ کیا جائے، جن شہریوں کی شہریت منسوخ کی گئی ہے، انہیں ان کا حق واپس دیا جائے، مذہبی آزادی اور آزادیِ عقیدہ کا مکمل احترام کیا جائے، شیعہ مذہبی شعائر اور رسومات پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں، بحرین اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کی پابندی کرے، معاشرے کے تمام طبقات کی شمولیت سے ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے تاکہ کشیدگی کے اسباب کا جائزہ لے کر قومی مفاہمت کی راہ ہموار کی جا سکے، مضمون کے اختتام پر البحرانی نے زور دیا کہ پائیدار استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے جامع اور بامعنی قومی مذاکرات ناگزیر ہیں۔