لاہور کے تھانہ سندر میں 2 سگی بہنوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی، 5 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
لاہور کے تھانہ سندر کے علاقے میں ایک خوفناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 5 ملزمان نے 2 سگی بہنوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکیوں کی والدہ کے بیان پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اداکارہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں ملزمان کو 20 سال قید کی سزا
تھانہ سندر کی پولیس کے مطابق دونوں بچیاں طیب نامی شہری کے گھر کام کرنے گئی تھیں جہاں عمیر جٹ نے ان کے ساتھ دست درازی کی کوشش کی۔ لڑکیوں کے منع کرنے پر اس نے اپنے دوستوں قاسم، علی اکبر، ضیاالرحمان اور احمد رضا کو بلایا اور باری باری دونوں بہنوں کے ساتھ زنا بالجبر کیا۔
واقعے کے بعد متاثرہ والدہ جمیلہ بی بی نے تھانہ سندر میں شکایت درج کرائی جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کر دی۔ پولیس نے کہا کہ مقدمے میں قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور تمام 5 ملزمان کے خلاف عدالت میں کیس چلایا جائے گا۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات کے لیے متعلقہ انویسٹی گیشن ونگ کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور ایس ایچ او تھانہ سندر کو مقدمے سے آگاہ کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اجتماعی زیادتی تھانہ سندر لاہور گینگ ریپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اجتماعی زیادتی تھانہ سندر لاہور گینگ ریپ تھانہ سندر کے ساتھ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔