کراچی میں بھتہ خوری اور منظم جرائم کے خلاف پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے خطرناک اور انتہائی مطلوب بھتہ خور گروہ کے اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ رضویہ تھانے کی حدود میں کی گئی اس کارروائی میں بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: ثروت اعجاز قادری کی رہائشگاہ پر پولیس کا چھاپہ، بھتہ خوری میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ

ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان کے مطابق گزشتہ رات رضویہ تھانے کی حدود میں ایس آئی یو اور ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پر گزشتہ ہفتے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی ویسٹ، سی آئی اے، ایس ایس پی سینٹرل اور ایس ایس پی ایس آئی یو شامل تھے۔

ایس ایس پی کے مطابق کارروائی پہلے سے گرفتار بھتہ خور ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی، جسے 2 روز قبل ایک مقابلے کے دوران ایس آئی یو نے زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 3 ہائی پروفائل ملزمان اور 3 شوٹرز سمیت مجموعی طور پر 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں جواد عرف واجہ قادری، ریحان الدین اور ملا شاہزیب اس بھتہ خور گروہ کے مرکزی کردار ہیں۔ یہ گروہ انتہائی مطلوب اور خطرناک بھتہ خوروں پر مشتمل تھا، جو وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواری کے نیٹ ورک کے تحت کام کر رہا تھا۔ دونوں مرکزی ملزمان اس وقت بیرون ملک روپوش ہیں۔

ایس ایس پی عمران خان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جس میں جی تھری رائفلز، ایس ایم جیز اور پستول شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان پولیس کو بھتہ خوری کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کے خلاف بھتہ خوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات کے تحت 10 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی پولیس کی کارروائیاں، بھاری مقدار میں منشیات برآمد، 14 ملزمان گرفتار

پولیس کے مطابق گرفتار ملزم ریحان الدین کار شوروم پر فائرنگ کے ایک مقدمے میں بھی ملوث تھا، جبکہ ایک ماہ قبل جمشید کوارٹر تھانے میں درج بھتہ خوری کے مقدمے میں بھی اس کا نام سامنے آیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ریحان الدین نے گروہ کے دیگر سربراہان، کارندوں اور بھتہ خوری کی وارداتوں سے متعلق اہم انکشافات کیے۔

ایس ایس پی کے مطابق مجموعی طور پر کارروائی کے دوران 17 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے ابتدائی تفتیش میں 8 افراد کا کرمنل ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ بھتہ خوری کے دوران فائرنگ میں ملوث تین دیگر ملزمان شعیب، طاہر اور عامر کو بھی گرفتار کیا گیا، جبکہ تین سہولت کار ملزمان کو غیر قانونی اسلحے سمیت حراست میں لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیگر گرفتار افراد کے کرمنل ریکارڈ کی جانچ اور ویریفکیشن کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی اور تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان رضویہ تھانہ کراچی پولیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان رضویہ تھانہ کراچی پولیس ریحان الدین ایس آئی یو ایس ایس پی بھتہ خوری کے مطابق کے دوران کیا گیا

پڑھیں:

نتیجہ خیز آپریشن شعبان!

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔

پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔

گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔

گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟

پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔

 بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار