رضویہ تھانے کی حدود میں بڑا آپریشن، 9 ملزمان گرفتار، بھاری اسلحہ برآمد
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
کراچی میں بھتہ خوری اور منظم جرائم کے خلاف پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے خطرناک اور انتہائی مطلوب بھتہ خور گروہ کے اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ رضویہ تھانے کی حدود میں کی گئی اس کارروائی میں بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ گرفتار ملزمان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: ثروت اعجاز قادری کی رہائشگاہ پر پولیس کا چھاپہ، بھتہ خوری میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ
ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان کے مطابق گزشتہ رات رضویہ تھانے کی حدود میں ایس آئی یو اور ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے مشترکہ کارروائی کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس آپریشن کے لیے ایڈیشنل آئی جی کراچی کی ہدایت پر گزشتہ ہفتے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی ویسٹ، سی آئی اے، ایس ایس پی سینٹرل اور ایس ایس پی ایس آئی یو شامل تھے۔
ایس ایس پی کے مطابق کارروائی پہلے سے گرفتار بھتہ خور ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی، جسے 2 روز قبل ایک مقابلے کے دوران ایس آئی یو نے زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران 3 ہائی پروفائل ملزمان اور 3 شوٹرز سمیت مجموعی طور پر 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں جواد عرف واجہ قادری، ریحان الدین اور ملا شاہزیب اس بھتہ خور گروہ کے مرکزی کردار ہیں۔ یہ گروہ انتہائی مطلوب اور خطرناک بھتہ خوروں پر مشتمل تھا، جو وصی اللہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواری کے نیٹ ورک کے تحت کام کر رہا تھا۔ دونوں مرکزی ملزمان اس وقت بیرون ملک روپوش ہیں۔
ایس ایس پی عمران خان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا، جس میں جی تھری رائفلز، ایس ایم جیز اور پستول شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان پولیس کو بھتہ خوری کے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کے خلاف بھتہ خوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات کے تحت 10 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی پولیس کی کارروائیاں، بھاری مقدار میں منشیات برآمد، 14 ملزمان گرفتار
پولیس کے مطابق گرفتار ملزم ریحان الدین کار شوروم پر فائرنگ کے ایک مقدمے میں بھی ملوث تھا، جبکہ ایک ماہ قبل جمشید کوارٹر تھانے میں درج بھتہ خوری کے مقدمے میں بھی اس کا نام سامنے آیا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ریحان الدین نے گروہ کے دیگر سربراہان، کارندوں اور بھتہ خوری کی وارداتوں سے متعلق اہم انکشافات کیے۔
ایس ایس پی کے مطابق مجموعی طور پر کارروائی کے دوران 17 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے ابتدائی تفتیش میں 8 افراد کا کرمنل ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ بھتہ خوری کے دوران فائرنگ میں ملوث تین دیگر ملزمان شعیب، طاہر اور عامر کو بھی گرفتار کیا گیا، جبکہ تین سہولت کار ملزمان کو غیر قانونی اسلحے سمیت حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دیگر گرفتار افراد کے کرمنل ریکارڈ کی جانچ اور ویریفکیشن کا عمل جاری ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی اور تفتیش بھی کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان رضویہ تھانہ کراچی پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان رضویہ تھانہ کراچی پولیس ریحان الدین ایس آئی یو ایس ایس پی بھتہ خوری کے مطابق کے دوران کیا گیا
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں