قادری ہاؤس پر چھاپہ، بھتہ خور گروپ کیخلاف کارروائی کی گئی: ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں قادری ہاؤس پر پولیس کارروائی پر ایس ایس پی اسپیشل انویسٹی گیشن عمران خان نے کہا ہے کہ ثروت اعجاز کے گھر سے چھاپے میں 17 افراد کو حراست میں لیا گیا، سنی تحریک کے رہنماؤں کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایس پی عمران خان نے کہا کہ انٹیلیجنس معلومات اور تکنیکی شواہد کی روشنی میں بھتہ خور گروپ وصی اللّٰہ لاکھو اور عبدالصمد کاٹھیاواڑی کیخلاف کارروائی کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی پہلے سے گرفتار ملزم ریحان الدین کی نشاندہی پر کی گئی۔ ملزم ریحان الدین چار سال تک بھتہ کیس میں جیل میں رہا ہے۔ ملزمان ایسی جگہ سے گرفتار ہوئے اس لیے معاملہ حساس ہوگیا۔
کراچی پولیس نے بھتہ خور گروہ میں شامل ہونے کے الزام میں جواد قادری اور شاہزیب ملا سمت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 3 بھتہ خور اور تین شوٹرز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، ملزمان سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ملزمان جمشید روڈ پر کار شوروم سے بھتے کے لیے فائرنگ میں ملوث ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گرفتار 17 ملزمان میں سے 8 ملزمان کا سابقہ کرمنل ریکارڈ ملا ہے، دیگر ملزمان کے جرائم ریکارڈ کی جانچ کی جارہی ہے۔
ایس ایس پی ایس آئی یو نے کہا کہ سال بھر میں بھتہ خوری کے 169 واقعات ہوئے تھے جس میں 65 واقعات بھتہ خوری کے تھے جبکہ دیگر واقعات ذاتی معاملات کے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل ہونے والی واردات میں کسی دوسرے گروہ کا نام سامنے آرہا ہے، جو لوگ دورانِ تفتیش سامنے آئے انہیں گرفتار کیا گیا۔ 17ملزمان حراست میں ہیں، تمام سے تفتیش کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی بھتہ خور نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔