کراچی میں واٹر ٹینکر کی ٹکر سے ایک اور بچہ جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شہر قائد میں ہیوی ٹریفک کے حادثات میں عام شہریوں کے جاں بحق ہونے کا سلسلہ نہ تھم سکا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے کورنگی میں افسوسنک واقعہ پیش آیا جہاں واٹر ٹینکر کی زد میں آکر کمسن بچہ جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جمعے کی صبح کورنگی 100 کوارٹرز، بنگالی پاڑا کے مرکزی بازار کے قریب پیش آنے والے حادثے میں 12 سالہ فرحان ولد نور محمد موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
رپورٹ کے مطابق حادثے کے بعد اہل محلہ بڑی تعداد میں جمع ہوگئے اور مشتعل شہریوں نے واٹر ٹینکر کو گھیرے میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس بھی جائے وقوعہ پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے ٹینکر کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا جب کہ بچے کی لاش کو ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
فرحان مقامی مدرسے کا طالب علم اور آٹھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔ مدرسے سے چھٹی کے باعث وہ محلے کے دیگر بچوں کے ساتھ گھر کے قریب گراؤنڈ میں کھیل رہا تھا۔ اسی دوران اس نے کرائے پر لی گئی سائیکل واپس دکاندار کو پہنچانے کا فیصلہ کیا، مگر چند لمحوں بعد ہی یہ معمولی سا کام اس کی زندگی کا آخری سفر بن گیا۔
حادثے کے عینی شاہد اور فرحان کے دوست کے مطابق متوفی گراؤنڈ میں سائیکل چلا رہا تھا۔ جب واپسی کا وقت قریب آیا تو وہ سائیکل واپس کرنے بازار کی طرف روانہ ہوا، لیکن جیسے ہی وہ مرکزی بازار میں داخل ہوا تو واٹر ٹینکر کی زد میں آ گیا۔
علاقہ مکینوں نے ایک اور پہلو بھی بیان کیا۔ اُن کے مطابق تیز رفتار موٹر سائیکل سوار نے پہلے فرحان کی سائیکل کو معمولی ٹکر ماری، جس سے وہ توازن کھو بیٹھا اور زمین پر جا گرا۔ اسی لمحے پیچھے سے آنے والے واٹر ٹینکر کے پچھلے ٹائر اس پر چڑھ گئے، اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
علاقہ مکینوں نے کہا کہ کورنگی اور اطراف میں ہیوی ٹریفک کے بے قابو داخلے نے شہریوں کی زندگیوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے اور رہائشی علاقوں میں بھاری گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود کی جائے تو اس طرح کے المناک حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر ٹینکر کے مطابق
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔