کراچی میں مذہبی و سیاسی جماعت کے سربراہ کے گھر پر چھاپہ، بھتہ خوری میں ملوث ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سندھ پولیس کے اسپیشل انوسٹیگیشن یونٹ نے پاکستان سنی تحریک کے سربراہ ثروث اعجاز قادری کے گھر پر چھاپہ مار کر بھتہ خوری کی سنگین وارداتوں میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو ڈاکٹر عمران نے بتایا کہ ناظم آباد ایک نمبر پر واقع قادری ہاؤس پر پولیس اور ایس آئی یو نے خفیہ اطلاع پر چھاپہ مار کر بھتہ خوری میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی شناخت جواد اور ملا شاہزیب کے نام سے ہوئی جن کا تعلق بدنام زمانہ بھتہ خور صمد کاٹھیاواڑی گروپ سے ہے۔
چھاپے کے دوران پولیس نے بڑی تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو کے مطابق گرفتار ملزمان بھتہ خوری کی کئی وارداتوں میں ملوث ہیں۔پولیس نے چھاپے میں سربراہ سنی تحریک اعجاز قادری کو گرفتار نہیں کیا جبکہ حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش جاری ہے۔
دریں اثناء کہ اعلامیہ ایس آئی یو کے مطابق ایس آئی یو / سی آئی اے کی اہم کارروائی ریحان نامی گرفتار شدہ ملزم جوکہ جمشید کوارٹر میں بھتہ اور فائرنگ میں ملوث تھا،اس کی نشاندہی پر قادری ہاؤس پر چھاپے میں جواد قادری عرف خواجہ اور شاہزیب ملا سمیت متعدد ملزمان گرفتارکیا۔
ایس ایس پی ایس آئی یو عمران خان کے مطابق ملزمان سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کرلیا گیا یے۔ملزمان کا سابقہ کریمنل ریکارڈ بھی موجود ہے۔اس معاملہ پر مزید تفتیش جاری ہے۔
ایس ایس پی عمران خان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان بھتہ خور گروہ کے سرغنہ صمد کاٹھیاواڑی اور وصی اللہ لاکھو کا نیٹ ورک چلاتے اور متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس ایس پی بھتہ خوری میں ملوث
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔