اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے فیض حمید کی سزا کو تاریخی فیصلہ قرار دیدیا۔

نجی ٹی وی چینل جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ فیض حمید کی سزا ایک تاریخی فیصلہ اور  حق و سچ کی فتح ہے، پاک فوج کا سسٹم بہت مضبوط ہے، قانونی میکنزم بہت مضبوط ہیں، اس معاملے پر  ایک لمبا عرصہ شواہد پیش کیے جاتے رہے، گواہان کے بیانات قلمبند کیے جاتے رہے۔فیض حمید نے بطور پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر ملک میں سازشیں کی، آج کا فیصلہ تاریخی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  فیض حمید کی جانب سے ریڈ لائن کراس کی گئی، ریٹائرمنٹ کے بعد جب سیاسی سرگرمیوں پر قدغن تھی تب یہ پی ٹی آئی کے سیاسی مشیر بنے اور ان کی پوری سیاسی سپورٹ کی۔

فیض حمید کی سزا ابتداء، لمبا چوڑا انصاف کا سلسلہ رکے گا نہیں: فیصل واوڈا

 وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 9 مئی جیسے واقعات میں انتشار پھیلانا اور  ریاست کے خلاف بغاوت کرنا ان پر ثابت ہوا ہے، ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس سامنے ہے، ناجائز اختیار ات اپنی پوزیشن کا  غلط استعمال کرنا یہ سب ناقابل تردید ہے، یہ لینڈ مارک فیصلہ ہے، اس سے قانون و انصاف کے نظام کو بہت تقویت ملی ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ یہ ایک فیئر ٹرائل ہوا اور بھرپور موقع دیا گیا، اپنے دفاع میں ثبوت اور گواہان پیش کریں، سیاسی معاملات کی بھی تحقیق ہورہی ہے، سب چیزیں فیض حمید پر ثابت ہوچکی ہیں، سیاسی وابستگی بہت زیادہ تھی، بطور پی ٹی آئی سیاسی مشیر ملک میں آگے بڑھ کر سازشیں کی گئیں اور انتشار پھیلایا گیا۔

کے پی حکومت نے و فاق کی ناقص قرار دی گئی 3 بلٹ پروف گاڑیاں اب تک واپس نہ کیں

ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی بہت سنگین معاملہ ہے اس پر تحقیقات ہوں گی، ان کی سیاسی اسسٹنٹ کی سنگین صورتحال کی تحقیقات کی جارہی ہیں، یہ ریاسٹ کی رٹ کمزور کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: فیض حمید کی سیاسی مشیر پی ٹی ا ئی عطا تارڑ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
  • رائل کمیشن کی مکہ کے تاریخی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم پیشرفت
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری