مقررین نے سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا (س) کی حیاتِ طیبہ، سیرت، کردار اور اسلامی معاشرے میں خواتین کے مقام پر جامع اور بصیرت افروز روشنی ڈالی۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

نئی دہلی میں "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ آل کرگل (لداخ) اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن دہلی (AKSAD) کے زیرِ اہتمام "فاطمہ ہی فاطمہ ہیں" کے عنوان سے ایک شاندار اور پُروقار کانفرنس غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی میں منعقد ہوئی۔ یہ پروگرام دخترِ رسول حضرت فاطمہ زہرا (س) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے منعقد کیا گیا۔ اس علمی و فکری کانفرنس میں خطۂ لداخ کی مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات اور اساتذۂ کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز مدرسۂ قرآن آوا کے طلبہ کی پُرسوز اور دلنشیں قرأتِ قرآن سے ہوا، جس نے محفل کو روحانی فضا عطا کی۔ اس موقع پر طالبات نے بھی کانفرنس میں مدلل اور مؤثر تقاریر پیش کیں۔ کانفرنس کے مہمانِ خصوصی نمائندہ ولی فقیہ سید علی خامنہ ای آیت اللہ ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی، مہمانِ اعزاز آغا سلطان (چیئرمین سنٹرل ریلیف کمیٹی حکومتِ کرناٹک) اور خصوصی مہمان حاجی حنیفہ جان (رکنِ پارلیمنٹ لداخ) نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس موقع پر معروف مقررین غلام رسول دہلوی، شیخ مرزا امینی اور محترمہ فزا عباس نقوی، ایم بی اے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی نے سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا (س) کی حیاتِ طیبہ، سیرت، کردار اور اسلامی معاشرے میں خواتین کے مقام پر جامع اور بصیرت افروز روشنی ڈالی۔ اختتامی نشست میں بعض نمایاں طلبہ کو ان کی علمی و تنظیمی خدمات کے اعتراف میں مومنٹو پیش کئے گئے۔ اس کے علاوہ معزز مہمانانِ ذی وقار کا روایتی غاطق سے استقبال کیا گیا اور انہیں لوحِ تقدیر بھی پیش کی گئی۔ کانفرنس مجموعی طور پر نہایت منظم، باوقار اور کامیاب رہی، جسے شرکاء نے ایک یادگار، شاندار اور باشکوہ علمی و ثقافتی اجتماع قرار دیا۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد فاطمہ ہی فاطمہ ہیں نئی دہلی میں

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان