پاکستان مخالف بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، آسٹریلیا میں فائرنگ کرنے والا افغان شہری نکلا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک پروگرام کے دوران فائرنگ کرکے 12 افراد کو ہلاک کرنے والا افغان شہری نکلا۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی خبر جھوٹ ثابت ہوئی، اور اب تصدیق ہوگئی ہے کہ حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کے بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے دوران فائرنگ، 12 افراد ہلاک
جس شخص کی پروفائل کو لے کر اسے مبینہ حملہ آور قرار دیا جا رہا تھا، وہ پاکستان کے الیکٹریکل انجینیئرنگ ہیں۔ نواز اکرم 2012 سے 2016 کے دوران اپنی تعلیم مکمل کی۔
ان کی معلومات کی اگر جانچ کی جائے تو وہ حملہ آور کی عمر اور دیگر معلومات سے مطابقت نہیں رکھتیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع دنیا کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے موقع پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے۔
واقعے کے دوران ایک عام شہری نے بہادری کی مثال قائم کی، جس نے مسلح شخص کو قابو میں کر کے اس کا ہتھیار چھین لیا۔ شہری کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اس اقدام سے ممکنہ طور پر کئی جانیں بچ گئیں۔
Not all hero’s wear capes
This bystander tackled the shooter at Bondi beach and managed to get the gun away from him
We need more people like him ???? pic.
— Oliver (@0xOliverX) December 14, 2025
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں ایک شخص سفید قمیض پہنے کار پارک میں دوڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے، وہ حملہ آور کے پاس پہنچ جاتا ہے جو رائفل پکڑے ہوئے تھا۔
یہ شخص یچھے سے اس مسلح شخص پر حملہ کرتا ہے، ہاتھوں سے اس کا ہتھیار چھین لیتا ہے اور پھر گن اسی پر واپس کر دیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر شہری کے اقدام کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، اور لوگوں نے اس کی بہادری کی تعریف کی، اور کہاکہ اس کی کارروائی نے ممکنہ طور پر کئی زندگیاں بچائیں۔ فوری طور پر اس کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا فائرنگ واقعہ: مسلح شخص کو قابو کرنے والے شہری کے چرچے، اقدام کی تعریف
آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھی آسٹریلوی شہریوں کے اقدامات کی تعریف کی، جنہوں نے دوسروں کی مدد کے لیے خطرے کی طرف دوڑ لگائی۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہاکہ یہ آسٹریلوی ہیروز ہیں اور ان کی بہادری نے کئی زندگیاں بچائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آسٹریلیا افغان شہری بھارتی پروپیگنڈا حملہ آور فائرنگ وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا افغان شہری بھارتی پروپیگنڈا حملہ ا ور فائرنگ وی نیوز ا سٹریلیا حملہ ا ور کے دوران
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔