امت مسلمہ کی نجات کا واحد راستہ جہاد اور شہادت کا جذبہ ہے، قائد انصاراللہ یمن
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
یمن میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم انصاراللہ کے سربراہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے خبردار کرتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں دشمن سے بھرپور جنگ شروع ہونے کا امکان پایا جاتا ہے کہا کہ خدا کی مرضی سے ماضی کی طرح آئندہ بھی فتح سے ہمکنار ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ انصاراللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے ہفتہ شہادت کی مناسبت سے تقریر کرتے ہوئے شہید اور شہادت کے مفہوم کا اعلی مقام بیان کیا اور خطے کے تازہ ترین حالات پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے تقریر کے شروع میں کہا: "شہداء کی برسی کا آغاز کرتے ہیں اور اس سلسلے میں منعقد ہونے والے پروگرام ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔ شہداء کے تمام عزیزوں پر درود بھیجتے ہیں اور پورے احترام سے ان کی یاد مناتے ہیں۔" سید عبدالملک الحوثی نے کہا: "شہادت ایک منفرد مقام ہے اور خداوند اسے ایسے انسانوں کو عطا کرتا ہے جو اس کے راستے میں جدوجہد کرتے ہیں۔ خدا کی راہ میں شہادت میں کوئی نقصان نہیں ہوتا اور خدا شہداء کو ایسا اجر عطا فرماتا ہے جو دنیوی زندگی سے برتر ہے۔ شہداء کا عظیم مقام ان کے اہلخانہ کے دلوں کے لیے تسلی بخش ہوتا ہے اور خدا کی راہ میں جہاد کے لیے دیگر انسانوں کو بھی جذبہ عطا کرتا ہے۔ شہادت ایک عظیم اور ایمانی مرتبہ ہے جس تک انسان خدا کی راہ میں ایثار اور قربانی کے ذریعے پہنچتا ہے۔ شہادت زندگی کی ثقافت کا متبادل نہیں ہے بلکہ بذات خود حقیقی زندگی کی ثقافت ہے۔"
شہادت سے روگردانی کا نتیجہ دشمن کے سامنے جھک جانا ہے
انصاراللہ یمن کے قائد سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے شہادت پر مبنی ثقافت کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کی وضاحت دیتے ہوئے کہا: "امت مسلمہ جو خدا کی راہ میں جہاد کے جذبے اور شہادت کی طلب کے ذریعے متحرک ہے، عزت حاصل کرتی ہے اور درپیش خطرات کو دور کرتی ہے۔ شہادت درست اس کوشش کے مقابلے میں ہے جو امت مسلمہ کو دشمن کے سامنے جھکا دینے اور رام کر دینے کے لیے انجام پا رہی ہے۔ امت مسلمہ کی تاریخ میں جب بھی خدا کی راہ میں شہادت سے روگردانی کی گئی ہے تو اس کا نتیجہ امت مسلمہ کا عظیم مصیبتوں میں گرفتار ہو جانے اور کروڑوں مسلمانوں کا دشمن کے سامنے جھک جانے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ امت مسلمہ کی تاریخ میں بے شمار المیے واقع ہوئے ہیں اور پرانے زمانے سے لے کر استعماری زمانے اور آج تک جب بھی امت مسلمہ نے جنگ اور مزاحمت ترک کی ہے اس کے نتیجے میں بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکیوں نے اس سال خود اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ بیس سال کے دوران انہوں نے تقریباً 30 لاکھ انسانوں کو قتل کیا ہے جس کا بڑا حصہ مسلمانوں پر مشتمل تھا۔"
دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکنا اس کے شر کو ختم نہیں کرے گا
انصاراللہ یمن کے سربراہ نے خدا کی راہ میں جہاد کی اہمیت اور امت مسلمہ کے دشمنوں کے سامنے ڈٹ جانے کی ضرورت کے بارے میں کہا: "ہم ہمیشہ سے نشانہ بنتے آئے ہیں چاہے یہ ہماری مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو۔ کوئی بھی ہمارا دفاع نہیں کرتا اور ہم صرف خدا کی راہ میں جہاد کے ذریعے ہی اپنا دفاع کر سکتے ہیں۔ دشمن کے سامنے ہتھیار پھینک دینا یا اس سے سازباز کر لینا ہمیں دشمنوں کے شر سے محفوظ نہیں بنا سکتا۔ خدا کی راہ میں جہاد ہم پر مقدس فریضہ ہے۔ اس وقت ہمارے بدترین دشمن یہودی ہیں۔" سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے غزہ میں غاصب صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات نیز جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "غاصب صیہونی رژیم نے حتی جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں قتل و غارت اور جارحیت ترک نہیں کی ہے اور وہ جنگ بندی معاہدے کا بالکل پابند نہیں ہے۔" انہوں نے مزید کہا: "امریکہ جس نے جنگ بندی معاہدے پر عملدرآمد کروانے کی ذمہ داری اٹھا رکھی تھی اس وقت صیہونی رژیم کے مجرمانہ اقدامات میں برابر کا شریک ہے جبکہ دیگر ثالث ممالک بھی اسرائیل کے سامنے عاجز اور ناتوان ہیں۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے خدا کی راہ میں جہاد انصاراللہ یمن دشمن کے سامنے ہے اور
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔