شہرِ قائد میں 6 روز کے دوران 26 ہزار سے زائد ای چالان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ویب ڈیسک : شہر قائد میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر 6 روز میں 26 ہزار 155 سے زائد ای چالان کردیے گئے۔
کراچی ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3283 الیکٹرانک چالان جاری کردیئے جبکہ گزشتہ6 روزکے دوران جاری کیے جانے والے ای چالان کی تعداد26ہزار155 سے تجاوزکرگئی۔ اس کے علاوہ ٹریفک پولیس کراچی نے جدید وخود کارفیس لیس ای ٹکٹکںگ نظام کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر 24 گھنٹوں میں مزید 3283 الیکٹرانک چالان جاری کیے۔
لاہور :ڈمپر نے موٹر سائیکل کو کچل دیا، 3 افراد جاں بحق
ٹریفک پولیس کے مطابق جمعے کی شب 12 بجے سے ہفتے کی شب 12 بجے تک سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر 1992 ای چالان، بغیرہیلمنٹ موٹر سائیکل چلانے پر 761، ریڈ لائٹ کی خلاف ورزی پر 119، موبائل فون کے استعمال پر 87، اوور اسپیڈنگ پر 104 ای چالان کیے گئے۔اس کے علاوہ کالے شیشوں پر 71 ای چالان، نوپارکنگ پر 26، رانگ وے پر 14، اوور لوڈنگ پر 2 اوربیجا لوڈ پر 10ای چالان جاری کیے گئے ہیں۔
علاوہ ازیں مسافروں کو بسوں کی چھت ہر بیٹھانے پر 58، اسٹاپ لائن کیخلاف ورزی پر28 اور ون وے اسٹریٹ پر رانگ پر 2 ای چالان جاری کیے گئے جبکہ ٹیکس کی عدم ادائیگی اور فینسی نمبر پلیٹس پر ایک بھی ای چالان جاری نہیں ہوا۔
موٹرسائیکل فلائی اوور سے نیچے گر گئی،سوارموقع پر جاں بحق
ترجمان ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ یہ نظام شہریوں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے اورمؤثرنگرانی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اورعوامی تعاون سے یہ نظام مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ شہریوں سے اپیل ہے کہ ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کریں تاکہ شہر میں ٹریفک کا نظام بہتر ہو اور حادثات میں کمی لائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی ٹریفک پولیس چالان جاری جاری کیے کی خلاف
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔