27ویں ترمیم کل قومی اسمبلی میں پیش کی جائےگی، اجلاس کا ایجنڈا جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
27ویں آئینی ترمیمی کی ایوان بالا (سینیٹ) سے منظوری کے بعد اب فیصلہ کرلیا گیا ہے کہ کل ترمیم قومی اسمبلی میں بھی پیش کر دی جائےگی۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے کل کے اجلاس کا ایجنڈا جاری کردیا ہے، جس کے مطابق آئینی ترمیم کل ایوان میں پیش کی جائےگی۔
مزید پڑھیں: 27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے: رانا ثنااللہ نے تصدیق کردی
واضح رہے کہ حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت موجود ہے، جس کے لیے اسے ترمیم کی منظوری کے لیے کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑےگا۔
سینیٹ میں حکومت کے کچھ ووٹ کم تھے تاہم اس کے باوجود حکومت ترمیم منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ 27ویں کے بعد 28ویں آئینی ترمیم بھی آ رہی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 28ویں آئینی ترمیم تعلیم، آبادی اور بلدیاتی اداروں کے حوالے سے ہوگی۔
اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ 27ویں ترمیم کو آئینی عدالت میں چیلنج تو کیا جا سکتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ آئینی عدالت اسی ترمیم کی وجہ سے بنی ہے۔
مزید پڑھیں: آئین کا جنازہ پڑھا دیا گیا، سیف اللہ ابڑو نے عمران خان سے غداری کی، مشعال یوسف زئی کا ردعمل
رانا ثنااللہ نے کہاکہ ہمارے پاس اس مرتبہ سینیٹ میں 67 یا 68 کا نمبر تھا، تاہم عرفان صدیقی اچانک علیل ہوگئے جس کے باعث وہ ایوان میں نہ پہنچ سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں ترمیم wenews ایجنڈا جاری دوتہائی اکثریت قومی اسمبلی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ترمیم ایجنڈا جاری دوتہائی اکثریت قومی اسمبلی وی نیوز قومی اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔