بین الاقوامی سرحد واہگہ بارڈر پرخودکش حملہ کے 3 مجرم بری
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)لاہور ہائیکورٹ نے بین الاقوامی سرحد واہگہ بارڈر پرخودکش حملے کے 3 مجرموں کو بری کردیا۔عدالت نے تینوں مجرموں کی سزائے موت کالعدم قرار دیدی، عدالت نے مجرم حسین اللہ، حبیب اللہ، سید جان عرف گجنی کی اپیلیں منظور کرلیں۔عدالت نے ناکافی گواہوں اور ثبوتوں کی بنا پر مبینہ سہولت کاروں کی اپیلیں منظور کیں پراسیکیوٹر نے کہا کہ واہگہ بارڈر پر دہشت گردی کے واقعے میں 55شہری شہید ہوئے، وقوعہ میں 110 شہری زخمی ہوئے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کسی کے رعایت کیمستحق نہیں، سزائے موت برقرار رکھی جائے، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔اپیل کنندہ حسین اللہ اور سید جان عرف گجنی کے وکیل راجا ندیم نے دلائل دیے، اپیل کنندہ حبیب اللہ کیوکیل اکرم قریشی نے دلائل دیے۔وکلا نے موقف اپنایا کہ دہشت گردی کاواقعہ سال 2014ء میں پیش آیامگر مقدمے میں 9ماہ کے بعد نامزد کیا، اپیل کنندگان پرخودکش حملہ آوروں کی سہولت کاری کاالزام تھا، پراسیکیوشن سہولت کاری کاکوئی بھی گواہ اور ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی، ٹرائل عدالت نے اپیل کنندگان کوسال 2020ء کوبلاجواز سزائے موت کا حکم سنایا۔عدالت سزائے موت کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے، واہگہ بارڈر خود کش حملہ کامقدمہ تھانہ باٹاپورمیں درج کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واہگہ بارڈر سزائے موت عدالت نے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔