سحر خان صبا قمر کے حق میں بول پڑیں، سوشل میڈیا صارفین کو خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سحر خان نے اداکارہ صبا قمر کی حمایت کرتے ہوئے سائبر کرائم کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب صبا قمر نے ایک ہفتہ قبل صحافی نعیم حنیف کو قانونی نوٹس بھیجا، جس میں یوٹیوب پر ان کے خلاف توہین آمیز تبصروں پر معافی اور ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
سحر خان نے پیر کے روز سوشل میڈیا پر اپنی اسٹوری میں لکھا کہ انہیں ان لوگوں سے احترام ختم ہوتا جا رہا ہے جو سوچے سمجھے بغیر بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ کوئی شخص انٹرنیٹ پر آ کر کسی کے بارے میں کچھ بھی کہہ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتہا پسند اور زہریلے ذہنوں کو ضرور سوال کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: بے بنیاد الزامات کیوں لگائے؟ اداکارہ صبا قمر نے صحافی کو 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا
ڈرامہ جن کی شادی ان کی شادی کی اداکارہ نے یاد دلایا کہ نعیم حنیف نے جون میں ٹک ٹاک کریئیٹر ثنا یوسف کے قتل کے بعد اس پر الزام لگایا تھا کہ اس کی سوشل میڈیا سرگرمیاں اس کی موت کی وجہ بنیں۔ ایک اور ویڈیو میں انہوں نے سماجی رابطوں کی معروف شخصیت قندیل بلوچ کے بارے میں بھی یہی الزام لگایا، جنہیں 2016 میں ان کے بھائی نے قتل کیا تھا۔
سحر خان نے ان تبصروں کو شرمناک اور گھٹیا قرار دیا اور کہا کہ ہر شخص کو سائبر کرائم قوانین کے تحت اپنے حقوق سے آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے آگاہی پھیلانے والے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہیں اور انہیں صبا قمر پر فخر ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر آواز اٹھائی۔
سحرخان نے کہا کہ ہمیں ایسے مستقبل کی طرف بڑھنا چاہیے جہاں رحم دلی اور ہمدردی، قیاس آرائی اور چغلی کی جگہ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ الفاظ زخم بھی دے سکتے ہیں اور شفا بھی، اس لیے انہیں سمجھداری سے چننا چاہیے۔ انہوں نے سائبر کرائم ایکٹ 2016 کی دفعہ 20 کا حوالہ دیا جس کے مطابق کسی کو آن لائن بدنام کرنے پر 3 سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیوز لیک ہونے پر مشی خان میدان میں آگئیں، خواتین کو اہم مشورہ
دوسری جانب سینئر اداکارہ میرا نے انسٹاگرام پر صبا قمر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ غلط شخص سے الجھ گئی ہیں۔ میرا نے نعیم حنیف کو اصولوں کا پکا اور پاکستانی میڈیا کی معتبر شخصیت قرار دیا۔ ان کے علاوہ تقریباً تمام شوبز شخصیات صبا قمر کے مؤقف کی حمایت کر رہی ہیں۔
اتوار کے روز صبا قمر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں نعیم حنیف کے اداکارہ فضا علی اور جوڑی شعیب ملک و ثنا جاوید کے خلاف توہین آمیز تبصروں کو نمایاں کیا۔ انہوں نے ایک ویڈیو کلپ بھی شیئر کیا جس میں وہ ثناء یوسف کے قتل پر نامناسب گفتگو کررہا تھا۔
صبا قمر نے کہا کہ نعیم حنیف جھوٹی خبریں پھیلانے، سستی شہرت حاصل کرنے اور محنتی لوگوں کی تذلیل کرنے کی عادت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ثناء جاوید کو ذاتی طور پر جانتی ہیں اور جانتی ہیں کہ جھوٹے الزامات نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کیا۔
صبا قمر نے کہا کہ انہیں کئی لوگوں نے بتایا ہے کہ نعیم حنیف نے آن اور آف اسکرین غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی اور کے ساتھ بھی ایسا تجربہ ہوا ہے تو وہ آگے آئیں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اداکارہ سائبرکرائم سحر خان شادی صبا قمر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اداکارہ نعیم حنیف نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔