پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما سینیٹر عرفان صدیقی مختصر علالت کے بعد اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔

منظر اسلام آباد کی ایک عدالت کا ہے جہاں جولائی 2019 کے مہینے میں سینیٹر عرفان صدیقی کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جہاں اپنے ہتھکڑی لگے ہاتھوں میں قلم تھامے وہ اُسے لہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا اصل جُرم یہ ہے۔

مزید پڑھیں: نواز شریف کے قریبی ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے

معاملہ سادہ سا تھا جس سے بعدازاں اُنہیں بری بھی کردیا گیا، الزام یہ تھا کہ اُنہوں نے اپنے گھر کا ایک حصّہ کرائے پر اُٹھانے سے پہلے پولیس کو مطلع نہیں کیا، عرفان صدیقی کے وکیل نے بتایا کہ جس مکان کا الزام لگایا جا رہا ہے وہ عرفان صدیقی کا نہیں بلکہ اُن کے بیٹے کی ملکیت ہے لیکن اسسٹنٹ کمشنر مہرین بلوچ نے اِس وضاحت کو ناکافی خیال کرتے ہوئے اُنہیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھجوا دیا۔

قلم کاروں کے قلم کبھی اُنہیں اقتدار کے ایوانوں میں پذیرائی بخشتے ہیں اور کبھی زنداں کے سائے۔ معروف کالم نویس، سیاسی تجزیہ نگار، شاعر، اُستاد اور کئی کتابوں کے مصنّف عرفان صدیقی اِن دونوں مراحل سے گزرے۔

ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنا گوکہ پاکستان میں ایک عام سی بات ہے لیکن عرفان صدیقی جن کی ساری زندگی کتاب اور قلم کے ساتھ گُزری، جن کے شاگردوں کا حلقہ خاصہ وسیع ہے جب اُنہیں اُس وقت 70 سال کی عمر میں ایک مجہول سے الزام کے تحت ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا تو معاشرتی سطح پر اِسے اساتذہ کی تحقیر سے تعبیر کیا گیا۔

اِبتدائی زندگی

عرفان صدیقی کا اصلی نام عرفان الحق صدیقی تھا لیکن وہ اپنے قلمی نام عرفان صدیقی کے نام سے زیادہ معروف اور جانے جاتے ہیں، اِس وقت پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے سینیٹ آف پاکستان کے رُکن اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ اُمور کے چیئرمین، کنوینیئر بھی ہیں۔

وہ راولپنڈی کے مضافاتی علاقے چک بیلی خان روڈ پر ایک گاؤں ڈھوک بُدہال میں 25 دسمبر 1949 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول سے ہی حاصل کی۔ بعدازاں اُنہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

عملی زندگی

عرفان صدیقی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز بطور ایک پرائمری اِسکول ٹیچر سے کیا، بعد ازاں ترقی کر کے ہائی اسکول اور اُس کے بعد سرسیّد کالج راولپنڈی میں اُردو کے لیکچرر مقرر ہوئے۔

بطور اُستاد کیریئر کے ایک طویل عرصے کے بعد اُنہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور مختلف اخبارات میں کالم لکھنے شروع کئے۔ 1997 میں جب پاکستان مسلم لیگ نواز برسرِ اقتدار آئی تو عرفان صدیقی کو اُس وقت کے صدرِ مملکت رفیق تارڑ کا پریس سیکریٹری اور تقریر نویس مقرر کیا گیا جہاں سے پاکستان مسلم لیگ ن کے ساتھ اُن کے تعلق کا آغاز ہوا۔

عرفان صدیقی کا خاندانی پس منظر

وہ ایک مڈل کلاس لیکن تعلیمی روایات کے حامل گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اِسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیر صدیقی اُن کے ماموں زاد بھائی جبکہ جماعتِ اِسلامی کے سابق معروف رہنما کئی کتابوں کے مصنف نعیم صدیقی بھی اُن کے کزن تھے۔ عرفان صدیقی کے والد بھی اپنے دور کے اعتبار سے ایک عِلمی شخصیت تھے۔

اخلاقیات کے گدلے تالاب کا کنول

وہ پاکستان کے سیاسی و فکری مباحثے میں اپنی نرم، نفیس اور باوقار تحریری اسلوب کے باعث منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کا شمار اُن لکھاریوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستانی صحافت کو وقار، شائستگی اور سنجیدگی بخشی۔

2011 سے پاکستانی سیاست میں پاکستان تحریک اِنصاف کی شمولیت اور اُس کے ساتھ دُشنام طرازی اور گالی گلوچ کے کلچر نے جنم لیا جو اِس سے پہلے کبھی اِتنی شدّت سے پاکستانی سیاست یا پاکستانی معاشرے کا حصّہ نہیں تھا۔

ایسے وقت میں کئی جیّد صحافی اُسی کلچر کا حِصّہ بن گئے۔ لیکن عرفان صدیقی اور اُن جیسے کردار کے حامل کئی لوگوں نے اُس کلچر سے اپنی برأت کا اظہار کیا، نہ صرف یہ کہ اُس میں شامل نہیں ہوئے بلکہ حتی المقدور اُس کی مزاحمت کرتے ہوئے وضع داری اور شائستگی کی روایت کو نہیں چھوڑا باوجود اِس کے کہ دُشنام طرازی اور گالم گلوچ کو بہت برداشت کیا۔

پھر 2018 میں جب پاکستان تحریک اِنصاف کی حکومت بنی تو اُنہیں ایک بے بنیاد مقدمے میں ہتھکڑیاں لگا کر سبق سِکھانے کی کوشش بھی کی گئی۔

علمی اور سیاسی خدمات

سینیٹر عرفان صدیقی نے مئی 2024 میں اپنے اُردو کالموں کا مجموعہ پی ٹی آئی اینڈ پاکستان: فرام سائفر ٹو فائنل کال کتابی شکل میں شائع کیا۔ انہوں نے قومی نصاب کمیٹی تشکیل دی، تعلیمی اصلاحات پر کام کیا،علمی و فکری حلقوں سے حکومتی رابطے مضبوط کیے۔

مزید پڑھیں: سینیٹر عرفان صدیقی کی صحت بگڑ گئی، 27ویں آئینی ترمیم پر ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

بعد ازاں انہیں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹ آف پاکستان کا رکن (سینیٹر) منتخب کیا گیا۔ بطور سینیٹر وہ قومی قانون سازی، نصاب سازی اور سماجی پالیسی سے متعلق امور پر فعال ہیں۔ اُن کی خِدمات کے لئے اُنہیں پاکستان کا اعلٰی سویلین اعزاز ہلال امتیاز بھی دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انتقال عرفان صدیقی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انتقال عرفان صدیقی وی نیوز سینیٹر عرفان صدیقی پاکستان مسلم لیگ ن کیا گیا ا نہیں

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ