مغربی ایشیا میں مذموم اسرائیلی منصوبوں کے بارے حزب اللہ کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
دمشق پر حکمراں باغیوں کیجاب سے تمام صیہونی احکامات کی مکمل تعمیل کے باوجود شام پر وسیع اسرائیلی حملوں کے تسلسل کیجانب اشارہ کرتے ہوئے حزب اللہ لبنان کے رکن سیاسی بیورو نے متنبہ کیا ہے کہ قابض صیہونی، عراقی سرحدوں تک جا پہنچے ہیں! اسلام ٹائمز۔ لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے رکن سیاسی کونسل محمود قماطی نے متنبہ کیا ہے کہ "گریٹر اسرائیل" نامی اہم و حقیقی خطرے کے پیش نظر کسی بھی سیاسی گروہ کو قابض صہیونی دشمن کے ساتھ "تعاون" ہرگز نہیں کرنا چاہیئے۔ الاخبار کے مطابق محمود قماطی نے کفرسالا شہر میں ایک یادگاری تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ لبنان کی تباہی کا انتباہ کوئی مبالغہ آرائی یا سیاسی نظریہ نہیں جبکہ گریٹر اسرائیل کے بارے خود نیتن یاہو بھی بات کر چکا ہے، لہذا یہ ہمارا قومی و لبنانی حق ہے کہ ہم امریکیوں کو یہ اجازت ہرگز نہ دیں کہ وہ لبنانی حکومت کو یہ کہے کہ وہ اسرائیل کے مفاد میں فلاں کام انجام دے.
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ شام کا تجربہ ہمارے سامنے موجود ہے، یہ ملک بغیر کسی اعتراض کے، جو کچھ بھی امریکی کہتے ہیں، بلا چون و چرا انجام دیتا ہے لیکن ان کا اس طرح سے مکمل "ہتھیار ڈال دینا" بھی اسرائیل کو شام پر روزانہ حملے کرنے سے روک نہیں پاتا کیونکہ شام میں کوئی مزاحمت ہی نہیں! حزب اللہ لبنان کے سینیئر رکن نے تاکید کی کہ جس مسئلے کو کچھ لوگ سمجھنے اور حتی مانتے سے بھی انکار کر رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ اسرائیل کی سرحدیں عراق کی سرحدوں تک جا ملی ہیں۔ محمود قماطی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے بھر میں ہم پر بڑی تبدیلیاں مسلط کی جا رہی ہیں جبکہ ہم کم از کم ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ہم اپنی پوری طاقت و صلاحیت کے ساتھ ان بڑے آپشنز کو مسترد کر دیں کہ جو نہ صرف لبنان بلکہ تمام عرب ممالک کے لئے خطرہ ہیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ ملک کو امریکہ و اسرائیل کے مینڈیٹ کے تحت لانے کا ایک اعلانیہ منصوبہ موجود ہے.. جبکہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ لبنان، ہر قسم کے دفاعی، اقتصادی یا حتی کہ بنیادی ترین معاشی صلاحیتوں سے بھی محروم ہو جائے کیونکہ وہ لبنان کو تقسیم کر دینا چاہتا ہے۔ محمود قماطی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، تو درحقیقت یہ بیان؛ سیاسی اور قومی اصولوں کے عین مطابق اور تمام لبنان کے لئے اس وجودی خطرے کے پیش نظر ایک "کم از کم کام" ہے کہ جسے انجام دیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔
صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔
انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔
گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔
ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گورنر سندھ نہال ہاشمی