Islam Times:
2026-07-24@06:16:57 GMT

مغربی ایشیاء کو درپیش صیہونی خطرات پر حزب‌ الله کا انتباہ

اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT

مغربی ایشیاء کو درپیش صیہونی خطرات پر حزب‌ الله کا انتباہ

اپنی ایک تقریر میں محمود قماطی کا کہنا تھا کہ پریشانی اس بات کی ہے کہ کچھ لوگ اس بات کو سمجھنے یا درک رکنے سے قاصر ہیں کہ اسرائیل، عراق کی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی مقاومتی تحریک "حزب‌ الله" كی سیاسی شوریٰ كے ركن "محمود قماطی" نے کہا کہ کسی بھی سیاسی گروہ کو گریٹر اسرائیل نامی حقیقی و وجودی خطرے کے سامنے، صیہونی دشمن کے ساتھ ہم آہنگی نہیں کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی تباہی کا انتباہ کوئی سیاسی نعرہ یا مبالغہ آرائی نہیں بلکہ نتین یاہو نے گریٹر اسرائیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے لبنان کو لپیٹنے کی بات کی۔ لہٰذا یہ ہماری قومی ذمے داری ہے کہ ہم امریکہ کو اس بات کی قطعاََ اجازت نہ دیں کہ وہ لبنانی حکومت کو اسرائیلی مفادات میں کام کرنے کے لئے ڈکٹیٹ کرے۔ شام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جو بھی امریکہ چاہتا ہے یہ ملک بلا چون و چرا انجام دے رہا ہے مگر اس کے باوجود کیا دمشق کے خلاف اسرائیلی حملے بند ہوئے؟۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے اس لئے جاری ہیں کیونکہ وہاں مقاومت نہیں ہے۔

محمود قماطی نے کہا کہ پریشانی اس بات کی ہے کہ کچھ لوگ اس بات کو سمجھنے یا درک رکنے سے قاصر ہیں کہ اسرائیل، عراق کی سرحدوں تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں بڑی تبدیلیاں ہم پر مسلط کی جا رہی ہیں، ایسے میں کم از کم ہم یہ کر سکتے ہیں کہ اپنی طاقت اور صلاحیت کے مطابق ان سازشوں کا مقابلہ کریں تاکہ ان بڑے چیلنجز سے نمٹ سکیں جو نہ صرف لبنان بلکہ تمام عرب اقوام کے لئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو امریکی و اسرائیلی تسلط میں لانے کا اعلان شدہ منصوبہ موجود ہے۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ لبنان، ہر قسم کی دفاعی و معاشی صلاحیت یا بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہو جائے، کیونکہ وہ لبنان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے درپے ہے۔ محمود قماطی نے کہا کہ جب ہم ہتھیار نہ ڈالنے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد قومی مفاد میں لبنان کی خودمختاری و سالمیت کا دفاع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے اس بات بات کی

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم