اسرائیل کا اپنی فوج کو غزہ میں تمام سرنگوں کو تباہ کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کی تمام سرنگوں کو تباہ اور نابود کر دیں۔
اسرائیلی اخبار ییدیوتھ آہرونتھ کے مطابق، کاٹز نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر بھی ایک ٹویٹ میں کہا کہ اگر سرنگیں نہ ہوں تو حماس نہیں ہو گی۔
علاوہ ازیں پچھلے ماہ کاٹز نے کہا تھا کہ غزہ میں فوجی کارروائی صرف دھڑوں کو غیر مسلح کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں حماس کے سرنگ نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس ہدایت کو اسرائیل کے زیر کنٹرول ییلو زون میں مرکزی ترجیح بنائے۔
واضح رہے کہ اکتوبر میں اسرائیلی فوج کے تخمینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس کے کارکنان ییلو لائن کے مشرقی جانب سرنگوں میں ہیں جو اسرائیل کے مقبوضہ غزہ کی پٹی کے 53 فیصد حصے سے منسلک ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔