ساحل کے قریب امریکی بحریہ کی موجودگی: وینزویلا نے مقابلے کیلیے فوج تعیناتی شروع کردی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
وینزویلا نے منگل کے روز اپنے ساحل کے قریب امریکی بحری موجودگی کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر ملکی فوجی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کریبیئن اور مشرقی پیسفک میں فوجی مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں بحری اور فضائی افواج کو تعینات کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔
لیکن اس آپریشن نے کراکس میں خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانا امریکا کا حتمی مقصد ہے۔
امریکی اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن کی افواج نے ستمبر کے اوائل سے بین الاقوامی پانیوں میں 20 جہازوں پر حملے کیے جن میں 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
تاہم، امریکا نے اب تک یہ ثبوت پیش نہیں کیا کہ یہ جہاز منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہوئے یا ملک کے لیے خطرہ بنے۔
وینزویلا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ وہ زمینی، بحری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سول ملیشیا کو بھی تعینات کرے گی۔
ریاستی ٹی وی نے مختلف ریاستوں میں فوجی رہنماؤں کے تقاریر کرتے ہوئے مناظر دکھائے، اس قسم کے اعلانات وینزویلا میں عام ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ یہ فوری طور پر زمینی فوجی تعیناتی میں بدل جائیں۔
گزشتہ ہفتے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ جنگ کے امکان کو کم دکھایا، لیکن کہا تھا کہ مادورو کے دن گنے جا چکے ہیں۔
واشنگٹن نے منگل کو دنیا کے سب سے بڑے ایئر کرافٹ کیریئر کو لاطینی امریکا کے علاقے میں بھیجا، جس سے فوجی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے، جس پر وینزویلا نے خبردار کیا ہے کہ یہ مکمل جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔
ایک بیان میں، یو ایس نیول فورسز جنوبی کمانڈ نے کہا کہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ، جسے تقریباً 3 ہفتے قبل منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے تعینات کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ کمانڈ کے علاقے میں داخل ہو گیا ہے، جو کہ لاطینی امریکا اور کریبیئن کو شامل کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔