بیوی کی شاپنگ سے بچنے کا نیا طریقہ، شوہر نے اپنی گاڑی خود چوری کرلی
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
روس میں ایک شخص نے بیوی کے ساتھ شاپنگ پر جانے سے بچنے کے لیے اپنی ہی گاڑی کی چوری کا ڈرامہ رچا ڈالا۔ یہ انوکھا واقعہ اپریل میں پیش آیا تھا لیکن پولیس نے اس کا انکشاف چند ماہ بعد اکتوبر میں کیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون نے ایمرجنسی نمبر پر کال کرکے اطلاع دی کہ ان کے شوہر کی گاڑی گھر کے قریب پارکنگ سے چوری ہوگئی ہے۔ بعد ازاں خاتون نے دوبارہ اطلاع دی کہ انہیں کار کراسنویارسک کے اوٹڈیخا جزیرے پر ملی ہے۔
پولیس جب جائے وقوعہ پر پہنچی تو گاڑی کے اگنیشن سوئچ پر خرابی اور زبردستی داخل ہونے کے آثار پائے گئے، تاہم تحقیقات کے دوران افسران کو شبہ ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔
مزید تفتیش اور شواہد کے تجزیے کے بعد پولیس نے انکشاف کیا کہ مذکورہ شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ شاپنگ پر جانے سے بچنے کے لیے اپنی ہی گاڑی کی چوری کی جھوٹی کہانی گھڑی تھی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے جرم کا اعتراف کرلیا ہے اور اس کے خلاف جھوٹی اطلاع دینے کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔