ایف بی آئی چیف کی گرل فرینڈ کا پوڈکاسٹر کیخلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
امریکی گلوکارہ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی گرل فرینڈ الیگزِس وِلکنز نے قدامت پسند پوڈکاسٹر الائجا شیفر کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔
الیگزِس وِلکنز نے پوڈکاسٹر الائجا شیفر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک ’بے لفظ‘ پوسٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جھوٹا تاثر دیا کہ وہ ایک اسرائیلی جاسوس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سیاسی تشدد کے الزامات، ایف بی آئی کٹہرے میں
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ 28 اکتوبر کو جنوبی فلوریڈا کی فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ شیفر نے وِلکنز اور کاش پٹیل کے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آن لائن مقبولیت بڑھانے کی کوشش کی۔
Kash Patel's girlfriend files frivolous $5 million lawsuits against MAGA influencers for 'insinuating' she's a Mossad honeypot
Filed by the director of Patel's foundation, one lawsuit targets @ElijahSchaffer for criticizing Israeli influence over Trump https://t.
— The Grayzone (@TheGrayzoneNews) November 10, 2025
الیگزِس وِلکنز نے 50 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ کے معاوضے، خصوصی اور تعزیری ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ تنازعہ 14 ستمبر کو الائجا شیفر کی ایک پوسٹ سے شروع ہوا، جن انہوں نے ایکس پر صارف ہین مزیگ کے ایک تھریڈ کو ری ٹویٹ کیا تھا، جس میں موساد کے خواتین ایجنٹس کے بارے میں بتایا گیا تھا جو ’اعلیٰ عہدے دار دشمنوں کو لبھانے‘ کے مشن پر تھیں۔
شیفر نے یہ پوسٹ بغیر کسی کیپشن کے ری ٹویٹ کی، لیکن اس کے ساتھ وِلکنز اور پٹیل کی ایک رسمی تقریب کی تصویر بھی لگا دی۔ یہ پوسٹ وائرل ہوگئی اور لاکھوں ویوز حاصل کیے۔
مزید پڑھیں:ایف بی آئی کا ریاست مشی گن میں دہشتگرد حملہ ناکام بنانےکا دعویٰ
مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ، چونکہ اس وقت سوشل میڈیا پر وِلکنز کے بارے میں ’ہنی پاٹ ایجنٹ‘ کے الزامات گردش کر رہے تھے، اس ری ٹویٹ نے مؤثر طور پر ان پر یہ الزام لگا دیا کہ وہ پٹیل کو بہکا کر امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مدعا علیہ نے کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، مگر مطلب واضح تھا اور اس اشارے نے وِلکنز کو ہراسانی اور دھمکیوں کا نشانہ بنا دیا۔
وِلکنز کے وکلا کا کہنا ہے کہ شیفر نے بدنیتی سے کام لیا، کیونکہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ اور کاش پٹیل دونوں کے ناقد ہیں۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ بھارتیوں کے ساتھ اپنے سمدھیوں کو بھی بڑے عہدوں سے نوازنے لگے
قانونی ماہرین کے مطابق، مقدمے میں کامیابی کے لیے وِلکنز کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ شیفر کو معلوم تھا کہ ان کا اشارہ غلط ہے یا انہوں نے سچائی کی پروا کیے بغیر لاپرواہی سے یہ عمل کیا۔
تاہم، فلوریڈا کی عدالتیں اکثر سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس کو اظہارِ رائے کے دائرے میں تحفظ دیتی ہیں، حتیٰ کہ ری ٹویٹ کو بھی محض ’شیئرنگ‘ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ’تائید‘۔
شیفر نے تاحال مقدمے پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔
دوسرا مقدمہیہ مقدمہ وِلکنز کی جانب سے دوسری بار ہتکِ عزت کا کیس ہے، اس سے قبل اگست میں انہوں نے سابق ایف بی آئی ایجنٹ اور پوڈکاسٹر کائل سیرافن کے خلاف ٹیکساس میں 50 لاکھ ڈالر کا دعویٰ دائر کیا تھا۔
اس مقدمے میں الزام تھا کہ سیرافن نے انہیں ’سابق موساد ایجنٹ‘ اور ’ہنی پاٹ اسکیم‘ میں ملوث قرار دیا تھا۔
سیرافن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات طنزیہ تھے، اور انہوں نے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دی ہے۔
نیش وِل سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ الیگزِس وِلکنز ایک کنٹری میوزک گلوکارہ اور قدامت پسند تجزیہ کار ہیں، وہ اور کاش پٹیل 2 سال سے ایک ساتھ ہیں اور ان کی ملاقات 2023 میں ایک تقریب میں ہوئی تھی، جو پٹیل کے فروری 2025 میں ایف بی آئی ڈائریکٹر بننے سے پہلے کی بات ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایف بی آئی سوشل میڈیا کاش پٹیل گرل فرینڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ئی سوشل میڈیا کاش پٹیل سوشل میڈیا ایف بی آئی گیا ہے کہ کاش پٹیل انہوں نے شیفر نے ری ٹویٹ
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔