امریکی گلوکارہ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل کی گرل فرینڈ الیگزِس وِلکنز نے قدامت پسند پوڈکاسٹر الائجا شیفر کے خلاف 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

الیگزِس وِلکنز نے پوڈکاسٹر الائجا شیفر پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ایک ’بے لفظ‘ پوسٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جھوٹا تاثر دیا کہ وہ ایک اسرائیلی جاسوس ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا میں سیاسی تشدد کے الزامات، ایف بی آئی کٹہرے میں

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ 28 اکتوبر کو جنوبی فلوریڈا کی فیڈرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کیا گیا، مقدمے میں کہا گیا ہے کہ شیفر نے وِلکنز اور کاش پٹیل کے تعلق کو استعمال کرتے ہوئے اپنی آن لائن مقبولیت بڑھانے کی کوشش کی۔

Kash Patel's girlfriend files frivolous $5 million lawsuits against MAGA influencers for 'insinuating' she's a Mossad honeypot

Filed by the director of Patel's foundation, one lawsuit targets @ElijahSchaffer for criticizing Israeli influence over Trump https://t.

co/hbbfz0HBse

— The Grayzone (@TheGrayzoneNews) November 10, 2025

الیگزِس وِلکنز نے 50 لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ کے معاوضے، خصوصی اور تعزیری ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ تنازعہ 14 ستمبر کو الائجا شیفر کی ایک پوسٹ سے شروع ہوا، جن انہوں نے ایکس پر صارف ہین مزیگ کے ایک تھریڈ کو ری ٹویٹ کیا تھا، جس میں موساد کے خواتین ایجنٹس کے بارے میں بتایا گیا تھا جو ’اعلیٰ عہدے دار دشمنوں کو لبھانے‘ کے مشن پر تھیں۔

شیفر نے یہ پوسٹ بغیر کسی کیپشن کے ری ٹویٹ کی، لیکن اس کے ساتھ وِلکنز اور پٹیل کی ایک رسمی تقریب کی تصویر بھی لگا دی۔ یہ پوسٹ وائرل ہوگئی اور لاکھوں ویوز حاصل کیے۔

مزید پڑھیں:ایف بی آئی کا ریاست مشی گن میں دہشتگرد حملہ ناکام بنانےکا دعویٰ

مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ، چونکہ اس وقت سوشل میڈیا پر وِلکنز کے بارے میں ’ہنی پاٹ ایجنٹ‘ کے الزامات گردش کر رہے تھے، اس ری ٹویٹ نے مؤثر طور پر ان پر یہ الزام لگا دیا کہ وہ پٹیل کو بہکا کر امریکی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ مدعا علیہ نے کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، مگر مطلب واضح تھا اور اس اشارے نے وِلکنز کو ہراسانی اور دھمکیوں کا نشانہ بنا دیا۔

وِلکنز کے وکلا کا کہنا ہے کہ شیفر نے بدنیتی سے کام لیا، کیونکہ وہ اسرائیلی اثر و رسوخ اور کاش پٹیل دونوں کے ناقد ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ بھارتیوں کے ساتھ اپنے سمدھیوں کو بھی بڑے عہدوں سے نوازنے لگے

قانونی ماہرین کے مطابق، مقدمے میں کامیابی کے لیے وِلکنز کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ شیفر کو معلوم تھا کہ ان کا اشارہ غلط ہے یا انہوں نے سچائی کی پروا کیے بغیر لاپرواہی سے یہ عمل کیا۔

تاہم، فلوریڈا کی عدالتیں اکثر سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹس کو اظہارِ رائے کے دائرے میں تحفظ دیتی ہیں، حتیٰ کہ ری ٹویٹ کو بھی محض ’شیئرنگ‘ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ ’تائید‘۔

شیفر نے تاحال مقدمے پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔

دوسرا مقدمہ

یہ مقدمہ وِلکنز کی جانب سے دوسری بار ہتکِ عزت کا کیس ہے، اس سے قبل اگست میں انہوں نے سابق ایف بی آئی ایجنٹ اور پوڈکاسٹر کائل سیرافن کے خلاف ٹیکساس میں 50 لاکھ ڈالر کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

اس مقدمے میں الزام تھا کہ سیرافن نے انہیں ’سابق موساد ایجنٹ‘ اور ’ہنی پاٹ اسکیم‘ میں ملوث قرار دیا تھا۔

سیرافن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات طنزیہ تھے، اور انہوں نے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دی ہے۔

نیش وِل سے تعلق رکھنے والی 27 سالہ الیگزِس وِلکنز ایک کنٹری میوزک گلوکارہ اور قدامت پسند تجزیہ کار ہیں، وہ اور کاش پٹیل 2 سال سے ایک ساتھ ہیں اور ان کی ملاقات 2023 میں ایک تقریب میں ہوئی تھی، جو پٹیل کے فروری 2025 میں ایف بی آئی ڈائریکٹر بننے سے پہلے کی بات ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایف بی آئی سوشل میڈیا کاش پٹیل گرل فرینڈ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ئی سوشل میڈیا کاش پٹیل سوشل میڈیا ایف بی آئی گیا ہے کہ کاش پٹیل انہوں نے شیفر نے ری ٹویٹ

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ