تصدیق کر رہا ہوں، اسلام آباد میں حملہ کرنیوالا افغان تھا: طلال چودھری
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، ہمیں شوق نہیں کسی کا الزام کسی پر لگائیں۔ افغانستان سے بات چیت ناکام ہونے کی وجہ افغانستان کی ہچکچاہٹ ہے۔ تصدیق کر رہا ہوں اسلام آباد میں حملہ کرنے والا افغان شہری تھا، افغانستان کے پاس فضائیہ نہیں، پھر لانگ رینج حملوں کا دعویٰ کیسے کیا؟ خود کش حملہ آور کو نہ پاکستانی زبان آتی تھی نہ پاکستانی کرنسی کا معلوم تھا، افغانستان صرف خود کش حملہ آوروں کے ذریعے ہی لانگ رینج حملے کر سکتا ہے۔ ثالثوں کے سامنے رکھنے کیلئے ہمارے پاس بہت سارے ثبوت ہیں ۔ کالعدم ٹی ٹی پی نے افغان طالبان امیر ہیت اللہ کی بیعت کر رکھی ہے، اگر کالعدم ٹی ٹی پی افغان امیر کی بیعت میں نہیں تو فتویٰ کیوں نہیں دیتے؟ مہاجرین افغان حمایت سے اسلحہ لیکر رات کے اندھیرے میں سرحد پار نہیں کرتے، افغانستان سے بات چیت ناکام ہونے کی وجہ افغانستان کی ہچکچاہٹ ہے، کسی بھی طرح کی ٹھوس ضمانتیں پاکستان کو نہیں افغانستان کو دینی ہیں۔ افغانستان کے کہنے پر تین بار ڈرافٹ تبدیل کئے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔