چاہتے ہیں افغانستان دہشت گردوں کو لگام دے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
امن عمل میں شریک ہو ،دہشتگردوں کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا اب بھی دیں گے،شہباز شریف
18 ویں ترمیم یا این ایف سی میں مشاورت کے بغیر تبدیلی نہیں ہوگی،قومی اسمبلی میں اظہار خیال
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وانا میں دہشت گردی کی کوشش کرنے والے خوارج میں بدقسمتی سے افغانستان سے لوگ بھی شامل تھے، دہشت گردوں کو پہلے بھی منہ توڑ جواب دیا اب بھی دیں گے، چاہتے ہیں افغانستان امن عمل میں شریک ہو اور دہشت گردوں کو لگام دے۔اٹھارہویں ترمیم یا این ایف سی میں مشاورت کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج اس ایوان نے بڑی یکجہتی کا اظہار کیا، 27ویں ترمیم پر بھرپور مشاورت ہوئی اور آج یہ آئین کا حصہ بن گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ جو چیز وفاق کو کمزور کرے تو وہ کتنی ہی اچھی ہو وہ پاکستان کے لیے مفید نہیں، کالاباغ ڈیم بڑا شاندار معاشی منصوبہ ہے مگر ہماری قومی یکجہتی سے اوپر کوئی چیز نہیں، اگر کالا باغ ڈیم سے وفاق کو نقصان پہنچے تو میں اس کے حق میں نہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں واضح لکھا ہے کہ آئینی عدالت بنائیں گے، چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کا مشکور ہوں، چیف جسٹس سے درخواست کی ریونیو کے کیسز جلد حل ہونے چاہئیں، اللّٰہ کا شکر ہے ریونیو سے متعلق کیسز میرٹ پر حل ہوئے، چیف جسٹس ہی سپریم جوڈیشل کونسل، جوڈیشل کمیشن اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کی سربراہی کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد کچہری میں اندوہناک واقعہ پیش آیا، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمارے ساتھ جھوٹے وعدے کیے جائیں، کل بھی کہا تھا دہشت گردی میں بھارتی ہاتھ ملوث ہے، چاہتے ہیں امن قائم ہو، حملہ آوروں میں افغان بھی شامل تھے، افغان وزیر خارجہ بھارت گئے اور پھر دوسرے دورے کیے یہ پیغامات اچھی طرح سمجھ آرہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ بھارت کو چار دن کے معرکے میں شکست فاش دی، نریندر مودی بے بسی کا شکار تھا اور اب بھی ہے، دہشت گردی کے خلاف ہم سب ایک ہیں، پاکستان خطے کی ترقی اور خوشحالی کا گہوارا بنے گا، افغان عوام کی ہم نے40 سال میزبانی کی، یقین دلایا کہ آپ ہمارے مہمان ہیں، کچھ عرصے پہلے پاکستان میں حملے ہوئے تو افغان وزیر خارجہ بھارت میں بیٹھے تھے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دیا گیا تو پوری قوم نے اس فیصلے کو سراہا، افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، آج دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں فوج کے افسر اور جوان دے رہے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ عرفان صدیقی نہ صرف ایک استاد بلکہ استادوں کے استاد تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔