27ویں ترمیم: سابق صدر، وزیراعظم کو جیلوں میں ٹھونسنے کا رواج، اس لیے استثنیٰ بڑی بات لگتی ہے، رانا ثنااللہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں سابق صدور اور وزرائے اعظم کو جیلوں میں ٹھونسنے اور عدالتوں میں گھسیٹنے کا رواج ہے، اس لیے استثنیٰ بڑی بات لگتی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صدر پاکستان کا عہدہ علامتی ہوتا ہے، اس نے براہ راست معاشی فیصلے نہیں کرنے ہوتے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ صدر کو جو تاحیات استثنیٰ دیا گیا ہے وہ اس صورت میں ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ نہیں لیں گے۔
انہوں نے کہاکہ صدر وفاق کی علامت ہے، اور ان کے پاس کوئی ایگزیکٹو اختیارات نہیں ہوتے، صدر مملکت تمام کام وزیراعظم کی ایڈوائس پر کرتے ہیں۔ اس لیے ان کو استثنیٰ دینا کوئی بڑی بات نہیں۔
’افغان سرزمین سے دہشتگردی ہوگی تو جواب دیا جائےگا‘
افغانستان سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی ہوگی تو جواب دیا جائےگا، اس معاملے پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت میں کوئی ابہام نہیں۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ اگر افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی ہوگی تو کرنے اور کرانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائےگی۔
انہوں نے کہاکہ ایسا بفر زون ہونا چاہیے کہ کسی کو چیک کیے بغیر پاکستان نہ آنے دیا جائے، ابھی تک دوست ممالک کی کوششیں جاری ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کا معاملہ مذاکرات کی میز پر حل ہو جائے۔
رانا ثنااللہ نے کہاکہ سیاسی و عسکری قیادت کا فیصلہ ہے کہ پاکستان میں امن مقدم ہے، افغان طالبان رجیم کو سمجھ ہے کہ دہشتگردی جاری رہی تو تجارت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ دوست اور ثالث ممالک ابھی مایوس نہیں ہوئے اور ان کی کوششیں جاری ہیں، کوئی درمیانی راستہ نکل آتا ہے تو اچھی بات ورنہ ہمارا فیصلہ اٹل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ تجارت بند کرنے سمیت کئی آپشن موجود ہیں، اور وقت پر فیصلے کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئینی ترمیم پاک افغان تعلقات رانا ثنااللہ مشیر وزیراعظم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک افغان تعلقات رانا ثنااللہ وی نیوز رانا ثنااللہ نے انہوں نے کہاکہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔