Jasarat News:
2026-07-24@14:50:05 GMT

اہرام مصر میں داخلے کا پوشیدہ راستہ تلاش کئے جانے کا دعویٰ

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

اہرام مصر میں داخلے کا پوشیدہ راستہ تلاش کئے جانے کا دعویٰ

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

قاہرہ: ماہرین آثارِ قدیمہ نے مصر کے مشہور اہرام میں سے ایک میں داخلے کا خفیہ راستہ تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گیزا میں موجود تین مرکزی اہرام میں سب سے چھوٹے مینکور ہرم کے بارے میں عرصۂ دراز سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں مزید ایک پوشیدہ راستہ موجود ہے۔

قدیم تاریخ کے مطابق یہ ہرم تقریباً 4550 برس قبل فرعون مینکورے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ سائنس دانوں کا طویل عرصے سے ماننا تھا کہ اس ہرم میں کسی دوسرے مقام سے بھی داخلی راستہ موجود ہو سکتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت نہیں تھا۔

عالمی محققین کی ایک ٹیم نے ہائی ٹیک ریڈار اور الٹرا ساؤنڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ہرم کی مشرقی دیوار کے نیچے دو خالی جگہوں کا سراغ لگایا ہے۔ ان خالی حصوں میں بغایت مہارت سے پالش کیے گئے بڑے پتھر دریافت ہوئے ہیں جن کی اونچائی تقریباً چار میٹر اور چوڑائی چھ میٹر بتائی جارہی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے پتھر اس سے قبل صرف ہرم کے شمالی جانب مرکزی داخلی راستے پر پائے گئے تھے، جس سے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ خالی جگہیں ممکنہ طور پر ایک اور داخلی راستے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع