اہرام مصر میں داخلے کا پوشیدہ راستہ تلاش کئے جانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
قاہرہ: ماہرین آثارِ قدیمہ نے مصر کے مشہور اہرام میں سے ایک میں داخلے کا خفیہ راستہ تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گیزا میں موجود تین مرکزی اہرام میں سب سے چھوٹے مینکور ہرم کے بارے میں عرصۂ دراز سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ اس میں مزید ایک پوشیدہ راستہ موجود ہے۔
قدیم تاریخ کے مطابق یہ ہرم تقریباً 4550 برس قبل فرعون مینکورے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ سائنس دانوں کا طویل عرصے سے ماننا تھا کہ اس ہرم میں کسی دوسرے مقام سے بھی داخلی راستہ موجود ہو سکتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی حتمی ثبوت نہیں تھا۔
عالمی محققین کی ایک ٹیم نے ہائی ٹیک ریڈار اور الٹرا ساؤنڈ ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے ہرم کی مشرقی دیوار کے نیچے دو خالی جگہوں کا سراغ لگایا ہے۔ ان خالی حصوں میں بغایت مہارت سے پالش کیے گئے بڑے پتھر دریافت ہوئے ہیں جن کی اونچائی تقریباً چار میٹر اور چوڑائی چھ میٹر بتائی جارہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے پتھر اس سے قبل صرف ہرم کے شمالی جانب مرکزی داخلی راستے پر پائے گئے تھے، جس سے ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ خالی جگہیں ممکنہ طور پر ایک اور داخلی راستے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔