ایف آئی اے کی کارروائی، غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 3 ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر کی گئی، جس کے تحت غیر قانونی کرنسی کے کاروبار میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت مدثر، سجاد علی اور محمد خالد کے نام سے ہوئی ہے اور انہیں سمن آباد کراچی سے حراست میں لیا گیا۔ ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کے کاروبار میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے مجموعی طور پر 18,000 سعودی ریال، 10,000 امریکی ڈالر اور 5,000 برطانوی پاؤنڈ برآمد ہوئے۔
مزید برآں، ملزمان کے قبضے سے 63 لاکھ 45 ہزار روپے بھی برآمد کیے گئے، اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج سے متعلق دیگر شواہد بھی ایف آئی اے نے حاصل کر لیے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان حکام کو برآمد ہونے والی کرنسی کے بارے میں مطمئن نہیں کر سکے، جس پر انہیں گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی اے کی ٹیم ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے تاکہ اس غیر قانونی کرنسی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرنسی ایکسچینج ایف ا ئی اے میں ملوث
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔