وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر کی گئی، جس کے تحت غیر قانونی کرنسی کے کاروبار میں ملوث ملزمان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت مدثر، سجاد علی اور محمد خالد کے نام سے ہوئی ہے اور انہیں سمن آباد کراچی سے حراست میں لیا گیا۔ ملزمان بغیر لائسنس کرنسی ایکسچینج کے کاروبار میں ملوث تھے اور ان کے قبضے سے مجموعی طور پر 18,000 سعودی ریال، 10,000 امریکی ڈالر اور 5,000 برطانوی پاؤنڈ برآمد ہوئے۔
مزید برآں، ملزمان کے قبضے سے 63 لاکھ 45 ہزار روپے بھی برآمد کیے گئے، اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج سے متعلق دیگر شواہد بھی ایف آئی اے نے حاصل کر لیے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ملزمان حکام کو برآمد ہونے والی کرنسی کے بارے میں مطمئن نہیں کر سکے، جس پر انہیں گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ ایف آئی اے کی ٹیم ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے تاکہ اس غیر قانونی کرنسی کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرنسی ایکسچینج ایف ا ئی اے میں ملوث

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار