گاڑی کے نیچے 2 لڑکیوں کو کچلنے کا واقعہ، ہائیکورٹ جج کے بیٹے کی ضمانت منظور، رہائی کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ہائیکورٹ جج کے بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے 2 لڑکیوں کے جاں بحق ہونے کے مقدمے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جج کے بیٹے ابوذر اور متاثرہ خاندانوں کے درمیان صلح طے پا گئی ہے، جس کے بعد متاثرہ خاندانوں نے عدالت میں ملزم کو معاف کرنے کا بیان ریکارڈ کرایا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی کی عدالت میں متاثرہ فیملیز کے بیانات درج کیے گئے۔
ایک لڑکی کے بھائی نے ذاتی طور پر بیان دیا، جبکہ اس کی والدہ کا بیان آن لائن ریکارڈ کیا گیا۔ دوسری لڑکی کے والد بھی عدالت میں پیش ہوئے اور صلح کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کیا۔
بیانات درج ہونے کے بعد عدالت نے ملزم ابوذر کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
مقدمے میں صلح کے بعد قانونی کارروائی کے اگلے مراحل آگے بڑھیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ضمانت منظور ہائیکورٹ جج وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ جج وی نیوز
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔