9 مئی واقعات: عمران خان، شاہ محمود، عمر ایوب سمیت دیگر کے بیرون ملک سفر پر پابندی، نام ای سی ایل میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 6th, December 2025 GMT
وفاقی حکومت نے سیاسی افراتفری پھیلانے والےعناصر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے 9 مئی واقعات میں ملوث ملزمان کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کردی۔
ذرائع کے مطابق سیاسی رہنماؤں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی باضابطہ منظوری دے دی گئی۔
وفاقی حکومت کا9مئی کےحوالے سےعمران خان اوردیگرکےخلاف بڑافیصلہ،132افراد کےنام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے گئے،
عمران خان، شاہ محمود قریشی، عمر ایوب،فوادچوہدری،شبلی فراز،علی امین گنڈہ پور،شہریارآفریدی، عثمان ڈار،شیری مزاری،زرتاج گل،مسرت چیمہ اورکنول شوزب ،شیخ رشید،شیخ راشد،زین…
— M Awais Kiyani (@awaiskiyani24) December 6, 2025
ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان، شاہ محمود قریشی، عمرایوب، فوادچوہدری، شبلی فراز کے نام شامل ای سی ایل میں شامل کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور، شہریار آفریدی، عثمان ڈار کے نام بھی ای سی ایل میں شامل کرلیے گئے۔
حکومت نے سابق وفاقی وزیر شیری مزاری، زرتاج گل، مسرت چیمہ اور کنول شوزب کا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیا، جبکہ شیخ رشید، شیخ راشد، میجر ریٹائرڈ طاہر صادق کے بیرون ملک سفر پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اس کے علاوہ سابق صوبائی وزیر راجا بشارت اور واثق قیوم عباسی سمیت دیگر شخصیات پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے فہرست سمیت وفاقی حکومت کو سفارش بھجوائی، ان سیاسی شخصیات کے نام 9 مئی فسادات کے تناظر میں ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ای سی ایل کمیٹی نےسفارشات وفاقی حکومت کو منظوری کےلیے بھجوائی تھیں۔
واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں نے ملک گیر احتجاج کرتے ہوئے فوجی تنصیبات پر دھاوا بولا تھا، اور شہدا کی مجسموں کی بے حرمتی کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سی ایل میں وفاقی حکومت کے نام
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔