آئین و جمہوریت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والوں کا چالان کون کرے گا؟ حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور( نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی متناسب نمائندگی کے تحت شفاف انتخابات چاہتی ہے، سیاست کو وڈیرہ شاہی، جاگیرداروں کے چنگل سے نجات اور عوام کو سرمایہ کی طاقت سے یرغمال بنانے والوں سے آزاد کرانے کے لیے متناسب نمائندگی کے تحت الیکشن ہی بہترین جمہوری عمل ہے۔ تھانہ کچہری کا موجودہ نظام چند طاقتوروں کے لیے ہے، اس سے عوام کو انصاف نہیں مل رہا، پولیس اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اجتماع عام کے دوران خدمات سرانجام دینے والے ذمہ داران و کارکنان کے اعزاز میں اقبال پارک، مینار پاکستان میں ہونیوالے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے اکیس دسمبر کو بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں پورے ملک میں دھرنوں اعلان کیا اور آئی پی پیز معاہدوں کے خلاف احتجاجی تحریک کو ازسر نو منظم کرنے کا بھی عندیہ دیا تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت تحریک کے آغاز سے قبل ہی آئی پی پیز سے معاملات ٹھیک کرلے تو بہتر ہے۔ تقریب سے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بھی خطاب کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، نائب امرا پروفیسر محمد ابراہیم خاں، ڈاکٹر اسامہ رضی میاں محمد اسلم،، ڈپٹی سیکریٹریز عثمان فاروق، وقاص انجم جعفری، مولانا عبدالحق ہاشمی،اظہر اقبال حسن، امیر لاہور ضیا الدین انصاری، ناظم مالیات نذیر احمد جنجوعہ، ناظم تنظیم رشید احمد اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے ذمہ داران و کارکنان کو اسناد و شیلڈز دیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اجتماع عام سے فرسودہ نظام کے خلاف ملک گیر جدوجہد کا آغاز ہوگیا۔ جماعت اسلامی آئندہ ایک برس میں پچاس ہزار عوامی کمیٹیاں اور پچاس لاکھ ممبرز بنائے گی۔ احتجاج کے ساتھ بہتری کے اقدامات بھی جاری رہیں گے۔ زی-کنیکٹ نوجوانوں کے لیے انقلابی اقدام ہے، اس جامع پروگرام کے تحت نئی نسل کو آئی ٹی اور مختلف ہنر سیکھنے کی تربیت فراہم کررہے ہیں۔ نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کے آغاز کے لیے بلاسود قرض دیں گے، انہیں کھیلوں میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کریں گے اور ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کسی بھی جمہوری نظام میں بلدیات کا نظام سب سے زیادہ موثر ہوتا ہے تاہم پاکستان میں حکمران پارٹیوں نے اس پر کبھی توجہ نہیں دی۔ نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیاں خاندانوں اور شخصیات کے تسلط میں ہیں، ان پارٹیوں میں سیاسی کارکنوں کی کوئی اوقات نہیں، خاندانوں پر چلنے والی پارٹیاں عوام کو بھی کوئی اختیار دینے کو تیار نہیں، پنجاب کا بلدیاتی کالا قانون اس کی مثال ہے، جماعت اسلامی نے نہ صرف پنجاب کے کالے قانون کے خلاف تحریک کا آغاز کیا ہے بلکہ پورے ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کو موثر بنانے کے لیے جدوجہد بھی شروع کردی، آئندہ اتوار کو تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں دھرنے ہوں گے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران عوامی فلاح کے چند اقدامات محض دکھاوے کے لیے کرتے ہیں، اداروں کو تباہ کرنے اور عوام کا استحصال کرنے میں یہ سب برابر شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں غلط کاموں میں ایک دوسرے کی نقل کرتی ہیں، سندھ میں مہنگے چالانوں کا آغاز ہوا تو پنجاب میں بھی سلسلہ شروع ہوگیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے سوال کیا کہ آئین و جمہوریت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے حکمرانوں کا چالان کون کرے گا؟ فارم سنتالیس سے مسلط ہونے اور مسلط کرنے والوں کو کون پوچھے گا؟ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جماعت اسلامی عوام اور خصوصی طور پر نوجوانوں کی طاقت سے ملک کو فرسودہ نظام اور اس کے سرپرستوں سے چھٹکارا دلائے گی۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن مینار پاکستان گرائونڈ میں استقبالیہ سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)