data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کابل: افغانستان کے ہندوکش خطے میں آنے والے شدید زلزلے نے ایک بار پھر تباہی مچا دی، زلزلے کے جھٹکوں سے متعدد مکانات منہدم ہوگئے، جس کے نتیجے میں مختلف حادثات میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 320 سے زائد زخمی ہو گئے۔

خبر ایجنسیوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے مزارِ شریف سمیت شمالی افغانستان کے متعدد شہروں میں محسوس کیے گئے، جس سے عمارتوں اور مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔

زلزلے کے وقت شہری خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے، جبکہ رات کے وقت سڑکوں اور کھلے میدانوں میں خوف و ہراس کی فضا دیکھنے میں آئی۔

امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق زلزلے کی شدت 6.

3 اور گہرائی 28 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی، جب کہ مرکز صوبہ سمنگان کے ضلع خُلم سے تقریباً 22 کلومیٹر جنوب مغرب میں تھا۔

زلزلے کے جھٹکے تاجکستان، ترکمانستان، ازبکستان اور ایران میں بھی محسوس کیے گئے۔ حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں رواں سال 31 اگست کو 6.0 شدت کے زلزلے میں دو ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے، جب کہ 2023 میں 6.3 شدت کے زلزلے اور آفٹر شاکس کے باعث کم از کم چار ہزار اموات رپورٹ ہوئیں۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: زلزلے کے

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی