ننھی کلیاں اور سرد رُتوں کی آمد
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
موسم کوئی بھی ہو، چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال اور حفاظت بہت ضروری ہوتی ہے، تاکہ معصوم بچے موسم کے سخت اثرات سے محفوظ رہیں۔ اب موسم ایک بار پھر بدل رہا ہے۔
بدلتے ہوئے موسم کے کچھ تقاضے ہوا کرتے ہیں۔ سرد رُتوں کی آمد پر صرف گرم کپڑے پہنے سے اس کی حشر سامانیوں سے نہیں بچا جاسکتا۔ آپ کو بچوں کو موسم کی شدت سے بچانے کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔ مثلاً رات کو سونے سے پہلے ان کے سرسوں کے تیل سے مالش کریں اور دن کے وقت دھوپ ضرور سینکوائیں، تاکہ وہ سردی کے اثرات سے محفوظ اور صحت مند رہیں۔ یہ درست ہے کہ بہت چھوٹے بچے زیادہ اور خصوصی توجہ اور دیکھ بھال چاہتے ہیں۔
ایک ماں کے لیے یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو سرد موسم کے منفی اثرات سے اور اس موسم کے دوران درپیش بیماریوں سے بچا کر رکھے۔ اکثر مائیں سردیوں میں پریشان ہو جاتی ہیں ، کیوں کہ اس موسم میں بچے کو نسبتاً زیادہ حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عموماً نوزائیدہ اور چھوٹے بچے آسانی سے سردیوں میں ٹھنڈ کا شکار ہو جاتے ہیں، تاہم یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ بہت زیادہ پریشان ہواجائے۔
بس ذرا درست اقدامات کر لیے جائیں، تو مسئلہ آسانی سے حل ہو جاتا ہے۔مندرجہ ذیل میں اسی حوالے سے کچھ کار ٹوٹکے دیے جا رہے ہیں، جن پر عمل کر کے مائیں اپنے بچو ںکو صاف ستھرا، خوش اور صحت مند رکھ سکتی ہیں، چوں کہ بچوں میں بیماریوں کے خلاف لڑنے کی طاقت کم ہوتی ہے، اس لیے انھیں ہر موسم میں بہر حال خاص دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔
سردیوں میں گرم یا نیم گرم پانی سے غسل تازگی بخشتا ہے اور مزاج پر بھی خوش گوار اثرات مرتب کرتا ہے، خصوصاً بچے سردیوں میں نہانے سے کتراتے ہیں، اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ انھیں روزانہ نہلائیں، تاکہ وہ صاف ستھرے رہیں۔ ایسا صابن استعمال کیجیے، جو بچوں کی جلد کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہو۔ بچوں کی جلد کی نمی برقرار رکھنے کے لیے نہلانے کے بعد ان کے جسم کو خشک کرکے بے بی لوشن یا کولڈ کریم ضرور لگائیں، تاکہ جلد کی نمی برقرار رہ سکے اور خشک جلد پریشان نہ کرے۔ غسل کے بعد بچے کو کچھ دیر کے لیے دھوپ لگائیں، تاکہ وہ ٹھنڈ کے اثرات سے محفوظ رہیں۔
بچے کو ٹھنڈ سے محفوظ رکھنے کے لیے گرم کپڑوں کا مسلسل استعمال نہ کریں۔ اس سے پسینا آتا ہے اور پھر پسینے میں ہوا لگتی ہے، جس کی وجہ سے اس بات کا امکان رہتا ہے کہ بچہ ٹھنڈ کا شکار ہو جائے گا۔ البتہ سردی میں خصوصاً شام یا رات کے وقت باہر جانے سے پہلے بچے کو گرم کپڑے ضرور پہنائیں، کانوں اور سر کو لپیٹ کر رکھیں اور پیروں میں موزے پہنائیں۔ یاد رکھیں سردی ہمیشہ کان اور پیروں کی وجہ سے جسم کو متاثر کرتی ہے۔
بلا شبہ سرد موسم میں بچے کو مناسب گرم ملبوسات پہنانا اچھی بات ہے، مگر یہ اس قدر گرم نہ ہوں کہ پسینا آنے لگے۔ بچوں کی جلد کی مناسبت سے نرم گرم ملبوسات بالکل ٹھیک رہتے ہیں کیوں کہ سرد موسم میں بچے کی جلد اور بھی حساس ہو جاتی ہے۔ چلنے پھرنے والے بچوں کو ٹائٹس پہنائیں، تاکہ ان کی ٹانگیں خشک ہونے اور پھٹنے سے محفوظ رہیں۔ چھوٹے بچے عموماً سردیوں میں پتلون پہنتے ہیں، اس سے اُن کی ٹانگیں گرم رہتی ہیں اور وہ ٹھنڈ کے اثرات سے محفوظ رہتی ہیں۔ سردیوں میں بچے کو موزے ضرور پہنائیں۔ اگر آپ ایسے علاقے میں رہتے ہیں، جہاں برف باری ہوتی ہے، تو بچوں کو ’اسنو سوٹ‘ میں اچھی طرح لپیٹ لیں، جو کہ بچوں کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے جاتے ہیں اور ان سے بچوں کو مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
سرد موسم اگرچہ بڑوں کی جلد کے لیے بہت پریشان کُن ہوتا ہے، مگر چھوٹے بچوں کے لیے تو یہ موسم بہت زیادہ ہی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ بچوں کی جلد بہت حساس ہوتی ہے اور اگر سردی زیادہ ہو تو بچوں کو زیادہ حفاظت کی ضرورت
ہوتی ہے۔ سرد موسم جلد کو خشک کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے جلد میں خارش ہونے لگتی ہے۔ نمی یا موائسچرائزر کا ان کی نازک جلدسے غائب ہونا حیرت کی بات نہیں، سرد موسم میں جلد کو خشک کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی قدرتی لچک کو بھی متاثر کرتا ہے۔ کچھ احتیاطی تدابیر کو اپنا کر مائیں مذکورہ بالا مسائل سے بچ سکتی ہیں۔ مثلاً
بچے کو نہلانے کے بعد فوراًگھر سے باہر نہیں لے کر جانا چاہیے۔ اس سے بچے کی جلد پھٹنے لگتی ہے۔ غسل دینے کے بعد بچے کے پورے جسم پر موئسچرائزر کا استعمال کریں، تاکہ بچے کے جسم میں نمی کی کمی نہ ہو، ’بے بی لوشن‘ اس سلسلے میں بہترین ہے۔ یہ بہترین موئسچرائزر ہے اور یہ بچے میں پانی کی کمی نہیں ہونے دے گا۔ سر سے پاؤں تک لوشن کا استعمال کریں اور اس دوران خیال رہے کہ لوشن بچے کی آنکھوں اورمنہ میں جانے نہ پائے۔ اگر آپ کو موئسچرائز کے انتخاب میں دشواری پیش آئے، تو
آپ اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کر سکتی ہیں۔ اس طرح آپ مطمئن بھی رہیں گی کہ آپ بہتر موئسچرائزراستعمال کر رہی ہیں۔
اگر بچے کی جلد موسم سے متاثر ہوکر سرخ اور پھٹی پھٹی نظر آنے لگی ہے، تو ایسی مصنوعات کا استعمال کریں، جو وٹامن سے مالا مال ہو اور خصوصی طور پر بچوں کے لیے تیار کی جاتی ہیں۔ یہ مصنوعات لوشن، کریم یا مرہم کی شکل میں آتی ہیں۔
بچے کے چہرے کی جلد کو پھٹنے سے بچانے کے لیے بچے کو ڈھانپ لیا کریں، جب گھر سے باہر نکلا کریں۔ اس طرح بچہ سرد موسم کے منفی اثرات سے محفوظ رہے گا۔ اس بات کو یقینی بنائیں کہ بچے کو محفوظ رکھنے والی مصنوعات تازہ ہوں اور اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ بچہ بے بی کیئریئر پر آہستگی سے بندھا ہوا ہو۔ یہ بہت ضروری ہے۔ یہ بچے کے کمر کی جلد کے لیے بہتر رہے گا، اس کے علاوہ موئسچرائزر کے لیے سردیوں میں آپ کمرے میں فضا میں نمی چھوڑنے والا آلہ بھی لگا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف یہ کہ آپ کے بچے کی جلد نم دار ہو جائے گی اور بچہ سرد موسم کے منفی اثرات سے محفوظ بھی رہے گا۔ تھوڑی سی توجہ اور دیکھ بھال کے ذریعے آپ سرد موسم کو اپنے بچے کے لیے خوش گوار موسم میں بدل سکتی ہیں۔
اگر شیر خوار بچوں کو سردی لگ جائے، تو جائفل کو پانی میں گِھس کر شہد میں ملاکر صبح وشام چٹائیں یا دیسی انڈے کی کچی زردی پھینٹ کر پلائیں، تو سردی کے اثرات سے ہونے والی تمام تکلیفیں دور ہو جائیں گی۔ نزلہ، زکام اور کھانسی میں بچوں کو گاجر اور پالک کا رس نکال کر برابر مقدار میں پلائیں یا ادرک کا رس شہد میں ملا کر چٹائیں۔ سردی سے ہونے والے سینے کے درد اور بلغمی کھانسی میں فائدہ ہوگا۔ جن بچوں کی پسلی چلتی ہو تو ایک ایک گرام السی اور میتھی کو پیس کر چھے گرام شہد میں ملا کر چٹائیں، اس کے علاوہ لہسن کے رس کو شہد میں ملا کر چٹانے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔ لوبان اور نوشادر ایک ایک گرام پیس کر چھے گرام شہد میں ملاکر چٹائیں، تو بھی مفید ہے۔ بچے کو وقفے وقفے سے نیم گرم پانی دیتی رہیں، تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ ماؤں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جن بچوں کے پہلے موسم سرما میں سردی اور بیماری سے بچاؤ ہو جاتا ہے، ان میں آئندہ کے لیے سردی اور بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔
موسم سرما میں نوزائیدہ بچے کو لے کر صبح اور شام کے وقت گھر سے باہر نہ جائیں۔ ٹھنڈ سے بچانے کے لیے بچے کو تھوڑی مقدار میں شہد دیں۔ جس کمرے میں بچہ سو رہا ہو، وہاں کی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند نہ کریں، بلکہ تازہ ہوا کے گزر کے لیے ایک کھڑکی کو ضرور کھولیں اور سوتے وقت بچے کا منہ کبھی نہ ڈھانپیں۔ اس سے بچے کو سانس لینے میں دشواری پیش آسکتی ہے۔ زیادہ سردی میں بھی ہر وقت ہیٹر کھلا نہ رکھیے۔ اس سے بچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کمرا گرم ہو جائے تو ہیٹر آف کر دینا چاہیے۔ رات میں بچے کو ہمیشہ خشک ڈائپر پہنائیے۔ بچے کی طبیعت زیادہ خراب ہو نے کی صورت میں ڈاکٹر کو دکھائیں اور ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی دوا نہ دیجیے۔
مائیں خود بھی اپنا خیال رکھیں، تاکہ وہ اپنے بچوں کی خوب اچھی طرح دیکھ بھال کر سکیں اس ضمن میں انھیں چاہیے کہ وہ خشک میوہ جاتکا استعمال کریں اور گڑ سے بنی ہوئی اشیا کھائیں۔ سوپ پیئیں اور موسم سرما کے تمام پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا استعمال کریں اثرات سے محفوظ بچوں کی جلد کے اثرات سے سردیوں میں میں بچے کو بچے کی جلد دیکھ بھال سکتی ہیں بچوں کے بچوں کو تاکہ وہ موسم کے ہوتی ہے ہوتا ہے ہے اور کے بعد جلد کی بچے کے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔