رجنی کانت سمیت بالی ووڈ ستاروں کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں ملنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار رجنی کانت اور دھنوش کو گھر میں بم نصب کیے جانے کی دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں جس کے بعد چنئی پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا۔
تامل ناڈو پولیس کے مطابق ریاستی ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) کو دو ای میلز موصول ہوئیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ رجنی کانت اور دھنوش کے گھروں میں دھماکا خیز مواد رکھا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی تینام پیٹ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ رجنی کانت کی رہائش گاہ پر حفاظتی جانچ کے لیے پہنچ گئے۔
پولیس کے مطابق پہلی ای میل پیر کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے موصول ہوئی، جس پر فوری کارروائی کی گئی، تاہم اداکار کے سیکیورٹی عملے نے بتایا کہ گھر میں کسی مشکوک شخص کے داخل ہونے یا غیر معمولی سرگرمی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان کے مطابق ممکنہ طور پر یہ ایک جھوٹی اطلاع تھی، اسی لیے انہوں نے بم اسکواڈ کی خدمات لینے سے معذرت کر لی۔
اسی روز شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ایک اور ای میل موصول ہوئی، لیکن اس بار بھی رجنی کانت کی ٹیم نے سیکیورٹی چیک کی اجازت نہیں دی۔ بعدازاں اداکار دھنوش کو بھی اسی نوعیت کی دھمکی موصول ہوئی، تاہم انہوں نے بھی پولیس کی مدد لینے سے انکار کیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں کئی مشہور شخصیات کو ایسے ہی جعلی بم دھماکوں کی ای میلز موصول ہوئی ہیں۔ سائبر کرائم ونگ نے ای میلز کے ماخذ کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل 2 اکتوبر کو بھی ڈی جی پی کو دھمکی آمیز ای میلز بھیجی گئی تھیں، جن میں مختلف وی آئی پیز کے دفاتر اور رہائش گاہوں پر بم نصب ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، جن میں اداکارہ تریشا کرشنن کا تینام پیٹ میں واقع گھر اور شیکھر کا منڈاویلی میں گھر بھی شامل تھے۔
یاد رہے کہ 9 اکتوبر کو پولیس نے ایک 37 سالہ شخص کو گرفتار کیا تھا جس نے تاملگا ویتری کزگم کے سربراہ وجے کی رہائش گاہ پر بم رکھنے کی جھوٹی دھمکی دی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تازہ واقعے میں بھی اسی نوعیت کے عناصر کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موصول ہوئی رجنی کانت کے مطابق
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔