بھارتی اداکار چرن جیوی کی ڈیپ فیک نازیبا ویڈیوز وائرل، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
جنوبی بھارت کے لیجنڈری اداکار چرن جیوی نے ان کے نام سے منسوب اے آئی جنریٹیڈ فحش ویڈیوز کے خلاف پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مقصد سے تیار کی گئی ہیں۔
چرن جیوی کی شکایت کے بعد حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ڈیپ فیک فحش مواد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔ تیلگو فلم انڈسٹری میں دہائیوں سے سرگرم 70 سالہ اداکار کا تعلق آندھرا پردیش سے ہے۔
پولیس کے مطابق زیرِ تفتیش ویڈیوز میں اداکار کو جعلی طریقے سے بے ہودہ مناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ چرن جیوی نے بیان میں کہا کہ یہ تمام مواد بدنیتی پر مبنی ہے، جس کا مقصد انہیں غیر اخلاقی انداز میں پیش کرکے عوام میں ان کی شخصیت کو داغدار کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’دہائیوں کی محنت سے بنائی گئی میری ساکھ کو نقصان پہنچانے والے اس اقدام نے نہ صرف مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو شدید ذہنی اذیت دی ہے بلکہ عوام کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘
پولیس نے اس کیس کو ڈیپ فیک اور سائبر ہراسانی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے منسلک قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چرن جیوی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔