بالی ووڈ کے ابھرتے ہوئے نوجوان اداکار نے خودکشی کرلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
بھارت میں ابھرتے ہوئے نوجوان اداکار نے اپنے گھر میں چھت کے پنکھے سے لٹک کر زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
بالی ووڈ پیسے، شہرت اور طاقت کی چکاچوند نگری ہے لیکن یہاں زندگی اتنی آسان نہیں ہے۔ بھاری قیمت چکانا ہوتی ہے۔
کئی ایک نوجوان اداکاراؤن کو اپنی عزتوں تو کچھ اداکاروں کو اپنی زندگی کا خراج دینا پڑجاتا ہے۔
نوجوان اداکار سچن چاندواڑے بھی ایسے ہی ابھرتے ہوئے نوجوان تھے جنھوں نے نیٹ فلکس کی سیریز سے اپنی پہچان بنائی۔
25 سالہ سچن نے نہ صرف ممبئی میں بلکہ مراٹھی فلموں میں کامیابیاں اپنے نام کیں اور حال ہی میں آنے والی فلم (Asuravan) کا اعلان کیا تھا۔
آج جب وہ کافی دیر تک اپنے کمرے سے باہر نہ نکلے اور بار بار دستک کے باجود دروازہ نہ کھولا تو اہل خانہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئے۔
سچن کو چھت کے پنکھے سے جھولتا پایا۔ اہل خانہ نے اداکار کو نیم مردہ حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا۔
ڈاکٹرز نے انھیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ سچن کو بچپن سے ہی اداکاری کا شوق تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اداکار سچن کے کمرے سے خودکشی نوٹ نہیں ملا تاہم کیس کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائے گی۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔