جنین میں اسرائیلی حملے میں تین فلسطینی شہید، مغربی کنارے میں کشیدگی میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مغربی کنارے کے شمالی علاقے جنین کے شہر کفر قد میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید ہو گئے، فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق وزارت صحت کے ترجمان نے کہاکہ شہید ہونے والوں کی شناخت عبدالله جلمانہ کے نام سے ہوئی جس کی عمر 27 سال، قیس البیتاوی ،جس کی عمر 21 سال اور احمد ناشراتی نوجوان 29 سال تھی ، صیہونی فوجیوں کی جارحانہ فائرنگ سے شہید ہوگئے۔
اسرائیلی فوج نے فوجی reinforcement کے ساتھ علاقے میں چھاپہ مارا، زرعی زمین کو گھیر لیا اور تین نوجوانوں پر فائرنگ کی ، اسرائیلی فوج نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس سے آگ لگی اور کچھ زیتون کے درخت بھی جل گئے۔
رپورٹس کےمطابق شہید ہونے والے افراد کی لاشیں اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لی ہیں جبکہ ایک کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی ہے، اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایک دہشت گرد سیل کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی، اس حملے میں ایک شخص کی شہادت فضائی حملے میں ہوئی۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ گزشتہ نو ماہ میں مغربی کنارے میں پہلا اسرائیلی فضائی حملہ ہے، جنین کے پناہ گزین کیمپوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں جن میں دسیوں فلسطینی مارے گئے، زخمی ہوئے اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی حملوں میں اکتوبر 2023 سے شدت آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی حکام کے مطابق 1,059 سے زائد افراد شہید اور 10,300 زخمی ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی عدالتی عدالت نے جولائی 2024 میں ایک تاریخی رائے میں اسرائیل کی فلسطینی علاقوں پر قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سے تمام بستیوں کی خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج نے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔