"فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت" اسرائیلی کنیسٹ کے ایجنڈے میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
غزہ کی پٹی سے اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کے بعد اب غاصب صیہونی رژیم کی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت کے بل کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے اسلام ٹائمز۔ غاصب و سفاک اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف انتہاء پسند اسرائیلی وزیر اندرونی سلامتی اتمار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) کی واضح دھمکیوں کے بعد، اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت کے قانون کو آئندہ ہفتے حتمی ووٹنگ کے لئے پیش کر دے گی۔ اس حوالے سے غاصب صیہونی رژیم کے حکمراں اتحاد کے سربراہ اوفیر کاٹز کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ سکیورٹی کمیٹی کی سربراہ، تزفیکا فوگل، اتحاد کے سربراہ اوفیر کاٹز اور کنیسٹ کے قانونی مشیر ساگت ایوک کے درمیان ملاقات کے بعد، اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ "دہشتگردوں کو سزائے موت دینے" سے متعلق مذکورہ بل کو بحث کے لئے آئندہ ہفتے کنیسٹ میں پیش کر دیا جائے گا جبکہ اسی سیشن کے اختتام پر حتمی ووٹنک بھی کروائی جائے گی۔ اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ حکمراں اتحاد اس قانون کو جلد از جلد منظور کروانے کے لئے "مضبوط عزم" رکھتا ہے۔
صیہونی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بیان جاری ہونے کے فوراً بعد ہی اتمار بن گویر نے بھی ووٹنگ کے وقت کا تعین کرنے پر چیئرمین حکمران اتحاد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں اس قانون کو آگے بڑھانے کے لئے سکیورٹی کمیٹی اور اس کی چیئرمین، اوٹزمہ یہودیت پارٹی کی نمائندہ تزفیکا فوگل کی کوششوں کا شکر گزار ہوں۔ قبل ازیں بن گویر نے اپنے پارٹی اجلاس میں گفتگو کے دوران دھمکی دی تھی کہ اگر فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا بل 3 ہفتوں کے اندر اندر کنیسٹ فلور پر نہ لایا گیا میں اور میری پارٹی، حکمراں اتحاد کے کسی بل پر ووٹ نہ دیں گے۔ اتمار بن گویر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کے ساتھ اتحاد کے معاہدے کے مطابق، کنیسٹ کی اس مدت کے دوران ہی، فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت کا قانون پاس ہونا ضروری ہے۔ اتمار بن گویر نے دعوی کیا کہ غزہ سے تمام زندہ اسرائیلی قیدیوں کی واپسی کے بعد، اب اس بل کی منظوری میں تاخیر کی کوئی وجہ نہیں رہی اور اس قانون کو جلد از جلد منظور کر لیا جانا چاہیئے تاکہ حماس پر دباؤ ڈالنے کے لئے مزید اقدامات اٹھائے جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینی قیدیوں کی سزائے موت اتمار بن گویر قانون کو اتحاد کے کے لئے کے بعد
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔